رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 179
179 کہ ہمارے دو مبلغ جاپان میں رہے ہیں اور دونوں کے کام کے نتیجہ میں سوائے ایک شخص کے جو مشتبہ ساتھا اور کوئی احمدی نہیں ہوا گویا جاپانیوں نے مذہب کی طرف بالکل توجہ نہیں کی مگر اس رویا میں معلوم ہوتا ہے کہ آخر اس قوم میں ندامت پیدا ہو گی اور جب ان میں تبلیغ پر زور دیا جائے گا اور انہیں اسلام اور احمدیت کی طرف کھینچا جائے گا تو کچھ حصہ تو دلیری سے مصافحہ کر لے گا یعنی احمدیت کو قبول کرنے گا مگر کچھ عرصہ اس شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے دیر لگائے گا۔الفضل 7۔فروری 1943 ء صفحہ 2 3 247 22 فروری 1943ء فرمایا : مجھے گذشتہ سے پیوستہ شب ذیل کا الہام ہوا جو مجھے اس وقت سے پہلے سمجھ نہیں آیا تھا میں اسے اب اولین موقع پر آپ (گاندھی جی۔ناقل) تک پہنچارہا ہوں الہام فارسی زبان میں تھا ترجمہ یہ ہے کہ افسوس ہے ایسے علم پر جو کہ اپنے رکھنے والے کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ علم جو آپ کو دیا گیا ہے اسے آپ کو ایسے رنگ میں استعمال نہیں کرنا چاہئے جو خود آپ کی ہلاکت کا خطرہ پیدا کر دے۔الفضل 24۔فروری 1943ء صفحہ 1 22 فروری کو الفضل کو بذریعہ تار بتایا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات آخر شب میں بڑے زور سے یہ فارسی الفاظ میرے دل اور زبان پر جاری ہوئے۔وائے مسلمے کہ برباد کند عالم را بار بار یہ الفاظ زبان پر جاری ہوتے اور دل پر نازل ہوتے تھے حتی کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گھنٹوں یہی کیفیت رہی میں نے فارسی نہیں پڑھی اور نہ اس کی کتب کا مطالعہ کیا ہے اس لئے تعجب ہوا کہ فارسی زبان کا فقرہ اور وہ بھی موزوں کلام اور پھر ایک فلسفیانہ نکتہ پر مشتمل کیوں اور کس حکمت سے نازل ہوا ہے۔میں دوسرے دن یعنی اتوار کو برابر سوچتا رہا کہ آیا صرف اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو اس میں بیان ہوا ہے یا کسی خاص شخص کی طرف اس میں توجہ دلائی گئی ہے عالم کے لفظ کی نسبت کچھ اشتباہ بھی پیدا ہوا کہ عالم ہے یا عالم مگر طبیعت کا غالب بلکه بهت غالب گمان عالم بكسره لام ہی تھا۔