رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 164

164 ہیں۔مجھے ان کا یہ فقرہ بہت بر الگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں نے تو منصور احمد سے مذاق کیا تھا اور مخاطب بھی میں نے اسے ہی کیا تھا مولوی صدرالدین صاحب درمیان میں کیوں بول پڑے۔پھر میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ بہت بری بات ہے آپ کو اس لئے اجازت نہیں دی گئی تھی کہ اندر آگر آپ ایسی بیہودہ باتیں کریں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور میری طرف انہوں نے بڑھنا شروع کر دیا گویا وہ میرا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنی کلائی ان کی کلائی کے سامنے رکھ کر انہیں پیچھے ہٹایا اور کہا کہ آپ نے یہ بہت بری حرکت کی ہے۔اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ مولوی صدرالدین صاحب میرے اس معمولی سے جھٹکے سے چاروں شانے چت گر گئے ہیں اور ان کا قد کوئی بالشت بھر کے قریب رہ گیا ہے اور وہ زمین پر پڑے ہوئے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے موم کی گڑیا ہوتی ہے اور وہ میری طرف اس طرح پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا سمجھتے ہیں میں انہیں مار ڈالوں گا۔پھر میں نے انہیں کہا کہ ہمارے گھر سے اسی وقت چلے جاؤ چنانچہ وہ باہر نکل گئے اتنے میں خواب میں ہی نماز کا وقت ہو گیا۔میں نماز کی تیاری کر رہا ہوں کہ میاں بشیر احمد صاحب میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوک میں کچھ پیغامی کھڑے ہیں جن میں مولوی صدرالدین صاحب بھی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نالش کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے ہم کو مارا ہے ہاں اگر وہ معافی مانگ لیں یا معافی نہیں مانگتے تو اظہار افسوس ہی کر دیں تو ہم نالش نہیں کریں گے ورنہ ضرور نالش کریں گے۔میاں بشیر احمد صاحب نے جب مجھے یہ بات کہی تو میں نے ان سے کہا مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں وہ بیشک مجھ پر نالش کر دیں میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔یہ سن کر میاں بشیر احمد صاحب چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد پھر واپس آئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے وہ تو کچھ اوباش لوگ تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ معافی مانگنے یا اظہار افسوس کرنے کے لئے تیار ہیں مگر جب میں نے آپ کا جواب انہیں سنایا تو وہ کہنے لگے اچھا اگر ان کی مرضی نہیں تو نہ سہی اور یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔میں نے یہ رویا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے بیان کر دیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ شاید پیغامی پھر کوئی فتنہ کھڑا کرنے والے ہیں کل شیخ بشیر احمد صاحب نے سنایا کہ ان کو لائل پور کے ایک دوست کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ پیغامیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مولوی