رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 163

163 کا فضل نازل ہوتے ہوئے ایک زمانہ وہ آئے گا کہ انسان یہ نہیں کہے گا کہ اے میرے رب! اے میرے رب! تو نے مجھے کیوں پیاسا چھوڑ یا بلکہ وہ کہے گا اے میرے رب! اے میرے رب! تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اچھل کر بہنے لگا اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔الفضل 6 جون 1941ء صفحہ 1 تا3 رویا میں مجھے قلب مومن کی شکل جو تنور کی طرح دکھائی گئی ہے اس سے بعد میں میرا ذہن اس آیت کی طرف منتقل ہوا جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو فَارَ التَّنُّورُ (ھود : (41) بنور جوش میں آگیا لوگ اس آیت کے مختلف معنے کرتے ہیں مگر اس رویا سے میں سمجھا کہ مجھے قلب انسانی ایک بنور کے رنگ میں دکھائے جانے سے شاید اس طرف بھی اشارہ ہو کہ فَارَ التَّنُّورُ میں بھی بنور قلب کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے یعنی ایک طرف خدا تعالیٰ کا امر نازل ہوا اور دوسری طرف نوح کے قلب میں جوش پیدا ہوا اور جب وہ دونوں مل گئے تو خدا تعالیٰ کا عذاب دنیا پر نازل ہو گیا۔الفضل 6۔جون 1941 ء صفحہ 4 9 اپریل 1941ء 234 فرمایا : چار پانچ دن ہوئے مجھے ایک رویا ہوا جس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پیغامی پھر کوئی فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ کوئی بیمار ہے جس کے لئے میں نے کونین تجویز کی ہے اور میں کو نین لینے کے لئے حضرت اماں جان) کے کمرہ کی طرف جا رہا ہوں جب میں کمرہ کے قریب پہنچا۔تو میں نے دیکھا کہ اندر میاں منصور احمد مولوی صدرالدین صاحب پیامی اور غالباً مرزا ناصر احمد اور مرزا مبارک احمد بیٹھے ہیں میرا غالب خیال یہی ہے کہ ناصر احمد بیٹھے ہوئے ہیں میں مولوی صدرالدین صاحب کو دیکھ کر بہت گھبرایا کہ یہ ہمارے گھر میں کس طرح آگئے ہیں مگر مرزا منصور احمد اور مرزا ناصر احمد نے بتایا کہ حضرت اماں جان) سے اجازت لے کر ان کا حال دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں۔میاں منصور احمد میرے بھیجے بھی ہیں اور داماد بھی۔میں نے رویا میں مذاق کے طور پر ان سے کہا کہ یہاں اماں جان کی شیشی میں سے کونین کی ایک گولی تو چرا دو (چرا دو کا لفظ اس لئے بولا کہ حضرت اماں جان) وہاں موجود نہ تھیں اور ان کی بلا اجازت کو نین لینے گئے تھے) اس پر مولوی صدر الدین صاحب کہنے لگے یہ تو پہلے ہی چوری کے عادی