رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 162

162 کہ گو اس کا دین غالب آجائے مگر کچھ نہ کچھ لوگ دین کے مخالف ضرور رہتے ہیں پس میں کہتا میرا یہ کہنا ایک انچ بھی ایسی باقی نہیں رہے گی جہاں خدا کا یہ نور نہ پہنچے غلطی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے چنانچہ میرے دل میں اس وقت خیال آتا ہے کہ دیکھو اللہ تعالٰی قرآن کریم میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کہ کچھ نہ کچھ لوگ ایسے موجود رہتے ہیں جو دین کا انکار کرنے والے ہوں اسی قسم کی بعض اور آیات میرے ذہن میں اجمالی طور پر آئی ہیں اور میں کہتا ہوں کہ ایسا ہونا تو خدا تعالیٰ کی سنت اور اس کے طریق کے خلاف ہے مگر پھر میرا ذہن فوراً اس امر کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ یہ تو ایک محاورہ ہے جو استعمال کیا جاتا ہے جب انتہائی رنگ میں ہم کسی چیز کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ہی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں پس چونکہ یہ فیضان انتہائی طور پر ہو گا اس لئے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ایک انچ زمین بھی ایسی باقی نہیں رہے گی جہاں خدا کا نور بہہ کر نہ پہنچے چنانچہ میں ان الفاظ کے کہنے سے نہیں رکھتا اور وہ پہلا سوال دل میں پیدا نہیں ہو تا بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ الفاظ کہنے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں کہ ایک انچ زمین بھی ایسی نہیں رہے گی جہاں خدا کا نور اور اس کا فیضان دلوں کے کناروں سے بہہ کر نہ پہنچے اور میں خیال کرتا ہوں کہ گو دنیا کا کچھ حصہ اس نور سے محروم رہ جائے مگر اس کا بہاؤ اتنی شدت کا ہو گا اور اس فیضان کا دائرہ اتنا وسیع ہو گا کہ اگر اس کے اظہار کے لئے کوئی الفاظ بولے جاسکتے ہیں تو وہ یہی ہیں کہ دنیا میں ایک انچ زمین بھی ایسی باقی نہیں رہے گی جہاں خدا کا یہ نور نہیں پہنچے گا۔چنانچہ خواب میں میں بڑے زور سے ان الفاظ کو دہراتا ہوں اور کہتا ہوں ایک انچ بھی ایسا باقی نہیں رہے گا جہاں خدا کا یہ نور نہیں پہنچے گا اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ ایک سفید پانی کی شکل میں خدا تعالیٰ کا نور اس کو نڈے کے کنارے سے نکل کر دنیا میں پھیلنا شروع ہوا اور وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔اس کے بعد مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے خدا تعالیٰ مجھے مستقبل کی بعض اور خبریں دے رہا ہے اسی دوران میں میں بڑے زور سے بعض الفاظ کو کہتا ہوں وہ الفاظ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے بائبل کے الہاموں کے ہیں اور وہ مجھے پوری طرح یا د رہے ہیں ممکن ہے کسی ایک یا آدھ لفظ کی بچائے اس کا ہم معنی کوئی اور لفظ استعمال ہو گیا ہو میں کہتا ہوں کہ احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالی