رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 161

دری کے دوسرے کنارے پر ایک بہت بڑا مکان ہے اور اس مکان میں ایک بہت بڑا ہال ہے میں اس ہال میں شملنے لگ گیا اور میں نے شملتے شملتے پھر بڑے زور سے اس نوجوان کو کہنا شروع کر دیا کہ تمہارے لئے افسردگی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی ایک بڑا بھاری مستقبل ہماری جماعت کے لئے مقدر ہے اس کے بعد میں نے ایک بڑی لمبی تقریر کی جس میں میں کئی قسم کی پیشگوئیاں بیان کرتا ہوں اور اس نوجوان کو بتاتا ہوں کہ ہمارے لئے یوں مقدر ہے۔افسوس ہے کہ مجھے اس تقریر کا بہت سا حصہ بھول گیا صرف دو باتیں یاد رہ گئی ہیں مگر وہ دو باتیں بھی اتنی شان کی ہیں کہ صرف ان کا یا د رہ جانا بھی اپنی ذات میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں خدا تو قادیان کے لوگوں پر یا جماعت کے لوگوں پر کا لفظ میں نے استعمال کیا ہے مجھے پورا یقین نہیں کہ میں نے رویا میں قادیان کے لوگوں کا نام بھی لیا تھایا ہماری جماعت کا ذکر کیا تھا بہر حال ان دونوں میں سے ایک کا ذکر کر کے میں کہتا ہوں کہ خدا توان لوگوں پر اس رنگ میں نزول برکات کرنے والا ہے کہ ان کے دلوں میں خدا کا نور نازل ہو گا پھر نور بڑھے گا اور بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ نور دلوں کے کناروں تک آئے گا اور پھر کناروں سے بھی بہنا شروع ہو جائے گا رویا میں جب میں کہتا ہوں کہ خدا کا نور ان کے دلوں کے کناروں سے بہنا شروع ہو جائے گا تو اس وقت مجھے مومن کے قلب کی شکل دکھائی دیتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک تنور ہے بچپن میں ہم دیکھا کرتے تھے کہ بھٹیار نہیں روٹی پکانے کے لئے جب بنور گرم کرتیں تو پتے اور لکڑیاں وغیرہ ڈال کر اور انہیں آگ لگا کر بعد میں تنور کے منہ پر مٹی کا کوئی کونڈا رکھ دیتی تاکہ تنور کی گرمی زیادہ ہو جائے ایسی ہی شکل مجھے مومن کے قلب کی دکھائی گئی بنور کی طرح اس کی شکل ہے اور اس پر مٹی کا ایک کو نڈاڈھکا ہوا نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ قلب کے سرے ہیں گویا ایک تنور کی صورت میں میں مومن کے دل کے کنارے دیکھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ان کناروں کے اوپر سے خدا تعالیٰ کا نور نکلے گا اور اس کا عرفان اور فیضان اس میں سے نکل کر دنیا میں ہے گا۔پھر میں اور زیادہ زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں خدا کا نوران کناروں سے بسے گا اور بہہ کر تمام دنیا میں جائے گا یہاں تک کہ دنیا کا ایک انچ حصہ بھی ایسا باقی نہیں رہے گا جہاں خدا کا یہ نور نہ پہنچے۔تو میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تو مبالغہ ہے ایسا ہو نا خدا تعالیٰ کی سنت کے خلاف معلوم ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے