رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 11

11 کہا۔یہاں ایک پیر کی قبر ہے اگر اس سے دعا کی جائے تو ہم اس ہلاکت سے بچ سکتے ہیں۔میں نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا۔میرے ساتھیوں میں سے بعض کہنے لگے اگر پیر سے دعا کی جائے تو کیا حرج ہے۔مگر میں کہتا رہا کہ یہ تو شرک ہے ہمیں ڈوبنا منظور ہے مگر یہ شرک ہرگز نہیں کریں گے۔چونکہ خطرہ دم بدم بڑھ رہا تھا اس لئے اسے روکتے روکتے میرے ساتھیوں میں سے ایک نے کاغذ پر کچھ لکھا اور سمندر میں ڈالنا چاہا۔میں نے کاغذ روک لیا یا کسی اور طرح ضائع کر دیا اور سختی سے کہا کہ یہ شرک ہے ہم شرک نہیں کریں گے۔جب ہم نے یہ کہا تو اس وقت کشتی اچھل پڑی اور اس گرداب سے باہر نکل آئی۔الفضل 5 اپریل 1919ء مسلمہ 0 و 8۔نیز دیکھیں۔منصب خلافت ( تقریر 12 اپریل 1914ء صفحہ 44 اور خلافت را شدہ صفحہ 266284) 14 مئی 1908ء فرمایا : جس رات کو حضرت صاحب کی بیماری میں ترقی ہو کر دوسرے دن آپ نے فوت ہونا تھا میری طبیعت پر کچھ بوجھ سا محسوس ہو تا تھا اس لئے میں گھوڑی پر سوار نہ ہوا۔ملک صاحب ملک مبارک علی صاحب تاجر لاہور) نے کہا۔میری گاڑی میں ہی آجائیں چنانچہ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا لیکن بیٹھتے ہی میرا دل افسردگی کے ایک گہرے گڑھے میں گر گیا اور یہ مصرعہ میری زبان پر جاری ہوا کہ سه راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو " ملک صاحب نے مجھے اپنی باتیں سنائیں۔میں کسی ایک آدھ بات کا جواب دے دیتا تو پھر اسی خیال میں مشغول ہو جاتا۔رات کو ہی حضرت صاحب کی بیماری یکدم ترقی کر گئی اور صبح آپ فوت ہو گئے۔یہ بھی ایک تقدیر خاص تھی جس نے مجھے وقت سے پہلے اس نا قابل برداشت صدمہ کے برداشت کرنے کے لئے تیار کر دیا۔تقدیر الہی صفحہ 121 ( شائع کردہ نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف ربوه - تقریر جلسہ سالانہ 1919ء) غالباً 1908ء 15 فرمایا : مجھے ایک کشف ہو ا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی میں نے