رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 10
10 صفحہ 34-35 فرمایا : 8 مارچ کو میں نے یہ رویا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات میں نے یہ رویا دیکھی اسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں گے یہ رویا لکھوا دے چنانچہ میں لکھوا تا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے۔پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا۔برکات خلافت صلحہ 37 - 38 12 8- مارچ 1907ء فرمایا : میں نے دیکھا ہو کہ " ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے۔اس پر لکھا ہے "محمود احمد پر میشر اس کا بھلا کرے"۔خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا۔کہنے والا کہتا ہے کہ ”کچھ تو خود رکھ لو۔کچھ حضرت صاحب کو دے دو۔کچھ صد را انجمن احمدیہ کو دے دو " پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ "کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنے سورج سمجھائے گئے اور محمد چراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کہ سورج ہے اس کی طرف سے آیا ہے۔منصب خلافت صفحہ 51 $1908 13 فرمایا : میں نے ایک دفعہ ایک رؤیا دیکھی شاید حضرت مسیح موعود اس وقت زندہ تھے میں اور کچھ اور آدمی کشتی میں سوار تھے اور ایک بہت بڑے سمندر میں چلے جا رہے تھے کہ سخت طوفان آیا اور کشتی چلتے چلتے بھنور میں پڑگئی۔بہت کوشش کی اور چپو چلائے کہ کسی طرح کشتی اس بھنور سے نکل جائے مگر جوں جوں ہم کو شش کرتے تھے وہ اس قدر زیادہ بھنور میں پڑتی جا رہی تھی۔ہم اسی طرح زور لگاتے رہے اور ہماری حیرانی بڑھتی جارہی تھی کہ ایک آدمی نے ہ " یہ رویا حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کاپی الہامات میں درج ہے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات ہیں " منصب خلافت م51