رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 137

137 ہیں اور ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہیں جو سمندر میں ہے اور سمندر بہت وسیع ہے جس کے ایک طرف اٹلی کی مملکت ہے اور دوسری طرف انگریزوں کی۔اٹلی کی مملکت شمال مغربی طرف معلوم ہوتی ہے اور انگریزی علاقہ مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف ہٹ کر۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کشتی اس جانب سے آرہی ہے جس طرف اٹلی کی حکومت ہے اور اس طرف جا رہی ہے جس طرف انگریزوں کی حکومت ہے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکدم شور اٹھا اور گولہ باری کی آواز آنے لگی اور اتنی کثرت اور شدت سے گولہ باری ہوئی کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ گویا ایک گولے اور دوسرے گولے کے چلنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور یکساں شور ہو رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ گولے متواتر پڑ رہے تھے اور اتنی کثرت سے پڑ رہے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا ان گولوں سے جو بھرا ہوا ہے۔میں یہ دیکھ کر گولوں سے بچنے کے لئے کشتی میں جھک گیا اس کے بعد کا نظارہ مجھے یاد نہیں رہا۔اس اثناء میں یکدم محسوس کرتا ہوں کہ ایک زبر دست طوفان آیا ہے اور دنیا میں پانی ہی پانی ہو گیا ہے اور میں اس وقت اپنے آپ کو پانی کے نیچے پاتا ہوں میری کمر پر اس وقت پانی کا اتنا بوجھ ہے کہ میں اس کی وجہ سے پورے طور پر کھڑا نہیں ہو سکتا اور ہا تھوں اور پاؤں کے بل چلتا ہوں ساتھ ہی اندھیرا بھی ہے اور مجھے تاریکی کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آتا لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جیسے پانی کو چادر میں ڈال کر کسی نے میرے اوپر سے اٹھایا ہوا ہے یعنی اس کا بوجھ میں زیادہ محسوس نہیں کرتا اور میری کمر پر پانی اس طرح لگ رہا ہے گویا وہ چادر میں ہے اور چادر کو کسی نے اٹھایا ہوا ہے جیسے پانی کی مشک کسی کی کمر پر رکھ دی جائے اور ساتھ اس کا بوجھ بھی نہ پڑنے دیا جائے ، اسی کی مانند حس تھی۔اسی حالت میں جبکہ میں حیران ہوں کہ اب کیا ہو گا میں محسوس کرتا ہوں کہ پانی کم ہونا شروع ہوا ہے اور کسی نے اس پانی کو جو ہمارے اوپر ہے اٹھانا شروع کر دیا ہے یہاں تک کہ تمام بوجھ میری کمر پر سے دور ہو گیا اور میں کھڑا ہو گیا۔اس وقت میں اپنے آپ کو ایک اس قسم کے کمرہ میں پاتا ہوں جو مغلیہ بادشاہوں کی عمارتوں کی طرز پر بنا ہوا ہے اس میں تین بڑے بڑے در ہیں جنہیں دروازہ نہیں لگا ہوا۔کمرہ مسجد مبارک سے کچھ بڑا ہے اس کمرہ میں کچھ اور لوگ بھی ہیں جن میں سے ایک میری بیوی ام طاہر ہیں جو میرے پاس ہی کھڑی ہیں جب میں کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ پانی کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ کمرہ کے دروں میں سے ایک در کے اوپر کی طرف سے پانی ہٹ گیا اور روشنی اندر داخل