رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 136

136 شریک ہوتے ہیں مگر کچھ دیر کے بعد ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں میں نے جب دعا کی تو وہ شخص میرے سامنے آیا اور اپنا سر زمین پر اس طرح رکھ کر کہ ایک کلہ نیچے اور دوسرا اوپر کی طرف ہے زمین پر لیٹ گیا۔وہ رو رہا ہے اور میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے سرپر پھیرتا ہے گویا برکت حاصل کر رہا ہے اس پر میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 16۔جون 1939ء صفحہ 6 7 213 اپریل 1938ء فرمایا : تھوڑے ہی دن ہوئے ایک رویا میں نے دیکھا جو بعض دوستوں کو سنا بھی دیا تھا۔اس رویا کو سنائے آج پانچواں دن ہے مگر اس سے بھی آٹھ دن پہلے میں نے یہ رویا دیکھا تھا اس وقت جو حالت تھی وہ دراصل رویا کی نہیں تھی۔سوتے سوتے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ نیم غنودگی کی حالت میں میں سورہ نوح کی چند آیتیں چھوڑ کر باقی آیتیں اس طرح پڑھ رہا ہوں کہ گویا ایک طرف لوگوں کو ان آیات کے ساتھ مخاطب کر رہا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالی سے دعا کر رہا ہوں مجھے سورہ نوح حفظ نہیں مگر اس وقت بلا تکلف اس کی آیات پڑھتا جاتا ہوں چنانچہ جو آیات میں نے اس وقت تلاوت کیں ان میں سے بعض مجھے اب تک یاد ہیں مثلاً یہ کہ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلاً وَنَهَارًا فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَالِي الْأَفِرَارًا (سوره نوح : 76) اور یہ بھی کہ ثُمَّ اِنّى اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا (سوره نوح : (10) بعض آیات مجھے اس وقت بوجہ اس کے کہ ساری سورۃ مجھے حفظ نہیں زبانی یاد نہیں لیکن یہ یقینی طور پر یاد ہے کہ صرف چند آیات چھوڑ کر باقی ساری سورۃ میں نے پڑھی ہے اس واقعہ سے میں نے سمجھا کہ کوئی ابتلاء ہے جو بہت بڑا ہے اور جس میں دشمن سے ہمیں سخت مقابلہ کرنا پڑے گا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1938 ء صفحہ 125۔نیز دیکھیں۔الفضل 20 - اپریل 1938ء صفحہ 4 (مجملاً ) 17 - جنوری 1942ء صفحہ 2-3 214 اپریل 1938ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور خواب میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ بعض اور لوگ بھی وہاں ہیں مگر یہ کہ وہ کون ہیں یہ مجھے یاد نہیں رہا۔صرف اتنا سمجھتا ہوں کہ اور لوگ بھی