رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 119

119 فکر ہے نہ کسی اور چیز کی۔ہم سب بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ مجھے محسوس ہو ا ہمارے آگے اللہ تعالیٰ کے فرشتے کچھ شعر پڑھ رہے ہیں ان کی آواز میں گونج ہے اور وہ بڑی محبت اور جوش کے ساتھ ان شعروں کو پڑھتے جا رہے ہیں۔ہم ان کی طرف بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم اس مقام کے قریب پہنچ گئے جہاں سے فرشتوں کے گانے کی آواز آرہی تھی اور جو گویا میں (Tunnel) کا آخری سرا تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے وہاں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آیا نہایت تیز روشنی جیسا نور جو تمام افق پر چھایا ہوا تھا اور میں نے دیکھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے ارد گرد کھڑے اس سے محبت اور عشق کا اظہار کر رہے ہیں۔میں بھی جس طرح دیوانہ انسان اپنا سر مارتا ہے، سر مارتے ہوئے وہاں کھڑا ہو گیا اور میں نے یہ شعر پڑھنا شروع کیا کہ ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا یہی شعر میں پڑھتا رہا پڑھتے پڑھتے جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا میں اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا یہی شعر پڑھ رہا تھا کہ ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا الفضل 21 جون 1944ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔الفضل 17۔جون 1935ء صفحہ 4 و 10۔مئی (31944 20۔اپریل 1935ء 196 فرمایا : پرسوں میں نے جو تقریر کی اس کے بعد میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ قاری سرفراز حسین جو دہلی کے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اور میں نے ان کی شکل کبھی نہیں دیکھی وہ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔اس کی تعبیر میری سمجھ میں یہ آئی کہ جو سرفراز ہونا چاہتا ہے وہ حسینی نمونہ دکھا کر عزت حاصل کرے میں سمجھا اس سے خدا تعالی کا یہی بتانا مقصود تھا۔گویا خدا تعالیٰ نے جماعت کو یہ پیغام دیا ہے کہ جماعت اگر سر فراز بننا چاہتی ہے تو حسینی نمونہ دکھائیں اور اس ابتلاء میں سے کامیابی کے ساتھ گزر جائیں۔رپورٹ مجلس شوری 1935ء صفحہ 98