رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 118

118 ہے دوسرا نو کر جیون خان کے پاس میرے ذرادائیں طرف کو بیٹھا ہے۔اس پر وہ آہستہ سے کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ کوئی روحانی مقام حاصل کروں پھر آہستہ سے پٹواری کا لفظ بولتی ہے اور پھر وہ کہتی ہے کہ ذرا الگ میری بات سن لیں گویا وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کے ملازم سن لیں اور میں ذرا پرے ہو کر اس کی بات سنتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ عاشق کو انعام سے کیا تعلق ہے اس کا کام تو قربانی کرنا ہے پھر اسے انعام سے کیا واسطہ میں اسے کہتا ہوں کہ اپنی بات کو ذرا اور واضح کرو اس پر وہ سورہ الرحمن کی کچھ آیات پڑھ کر کہتی ہے کہ مجھے ان پر کچھ شبہ پیدا ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اسی لئے اس نے کہا تھا کہ الگ ہو کر بات سن لیں کہ تا نوکر اسے بے دین نہ سمجھیں حالانکہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔سورہ الرحمٰن کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے۔میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ گو الفاظ عام ہیں مگر یہ انعامات سارے انسانوں کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے ہیں اور وہ پوچھتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو عاشق تھے انہیں انعام سے کیا واسطہ۔اس پر میں نے اسے ایک مثال کے ذریعہ سمجھانا چاہا اور اس سے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ ایک بادشاہ ہے اس پر غنیم حملہ کرتا ہے وہ اپنے ایک وفادار جرنیل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں کمانڈ ربنا کر اس تنظیم کے مقابل پر بھیجتا ہوں اب تم ہی بتاؤ کہ وہ کیا کہے۔کیا یہ کہے کہ نہیں حضور میں تو خادم اور عاشق ہوں مجھے انعام کی ضرورت نہیں یا یہ کہ بہت اچھا حضور۔اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں اسے چاہئے اس عہدہ کو قبول کرے۔میں کہتا ہوں کہ بس یہی حال یہاں ہے اللہ تعالیٰ جو انعام دیتا ہے وہ حقیقت میں قربانی ہوتی ہے اس پر اس نے اپنی تسلی کا اظہار کیا اور میری آنکھ کھل گئی۔یہ مضمون حقیقت پر مبنی ہے۔الفضل 12۔اپریل 1935ء صفحہ 4 195 اپریل 1935ء فرمایا : میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ جیسے پہاڑوں میں شلز (Tunnels) ہوتے ہیں اسی طرح ایک پہاڑی راستہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی عاشق رو میں جا رہی ہیں میں بھی ان میں شامل ہوں۔بہت سے لوگ میرے آگے ہیں اور بہت سے میرے پیچھے ہیں مگر وہ سب کے سب ایسے ہی ہیں جیسے دیوانہ وار مجذوب ہوتے ہیں۔نہ انہیں سرکی فکر ہے اور نہ پیر کی۔نہ لباس کی