رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 111

111 میرا آقا میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے۔اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر اخلاص اور رنج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اول تو اس میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جس قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا خواہ کوئی ہی حالات ہوں وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔دوسرے یہ کہ ظفر اللہ خاں سے مراد اللہ تعالی کی طرف سے آنے والی فتح ہے اور ذات سے قربانی کی اپیل سے ملی نصر اللہ کی آیت مراد ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اپیل کی گئی تو وہ آگئی۔اور سینہ اور کندھوں کو بوسہ دینے سے مراد علم اور یقین کی زیادتی اور طاقت کی زیادتی ہے اور آقا کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ فتح و ظفر مومن کے غلام ہوتے ہیں اور اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور جسم اور روح کی قربانی سے مراد جسمانی قربانیاں اور دعاؤں کے ذریعہ سے نصرت ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں اور فرشتوں کی طرف سے ہمیں حاصل ہوں گی۔عجیب بات ہے کہ رویا میں میں نے چوہدری صاحب کو جس لباس میں دیکھا تھا ان کے آنے پر ویسا ہی لباس ان کے جسم پر تھا کو عام طور پر ان کا لباس اور طرح کا ہوتا ہے۔الفضل 18۔نومبر 1934ء صفحہ 5 188 مبر 1934ء فرمایا میں جمعہ کے بعد رات کو بستر پر لیٹا ہوا تھا اور غالبا نصف شب کے بعد کا وقت ہے کمزوری اور کمر درد کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی اور میں جاگ رہا تھا کہ جاگتے ہوئے میں نے نظارہ دیکھا کہ میری کوئی بیوی والدہ ناصر احمد یا والدہ طاہر احمد غالبا والدہ ناصر احمد ہیں کسی شخص نے آکر دستک دی ہے انہوں نے دریافت حال کیا تو اس شخص نے ایک چیزا نہیں دی کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے بھیجوائی ہے۔انہوں نے لا کر مجھے دی کہ غلام نبی صاحب گلکار (جو کشمیر کی جماعت کے پریذیڈنٹ ہیں) یہ قدرتی برف لائے ہیں کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب نے دی ہے۔وہ برف ایک سفید تولئے میں لپٹی ہوئی ہے اور دو سیر کے قریب ہے اور اس کی شکل بڑی اینٹ کے مشابہ ہے میں کشف کی حالت میں اس برف کو پکڑتا ہوں اور حیران ہو تا ہوں کہ اتنی دور سے اتنی برف کس طرح محفوظ پہنچ گئی تو تولیہ بھی بالکل خشک ہے اور اس میں برف پگھلنے کی