رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 103

103 174 جنوری 1933ء فرمایا : میں نے کچھ دن ہوئے اسی رمضان (1351ھ) میں ایک رؤیا دیکھا کہ ایک بڑا ہجوم ہے ایسا ہی جیسا کہ اب آپ لوگ بیٹھے ہیں میں اس میں بیٹھا ہوں اور ایک دو غیر احمدی بھی میرے پاس بیٹھے ہیں کچھ لوگ مجھے یاد رہے ہیں۔ان میں سے ایک شخص جو میرے سامنے بیٹھا تھا اس نے آہستہ آہستہ میرا ازار بند پکڑ کر گرہ کھولنی چاہی میں نے سمجھا اس کا ہاتھ اتفاقا جالگا ہے اور میں نے ازار بند پکڑ کر اس کی جگہ پر اٹکا دیا۔پھر دوبارہ اس نے ایسی ہی حرکت کی اور میں نے پھر بھی یہی سمجھا کہ اتفاقیہ اس سے ایسا ہوا ہے اور پھر ازار ہندا ڈس لیا۔تیسری دفعہ پھر اس نے ایسا ہی کیا تب مجھے اس کی بدنیتی کے متعلق شبہ ہوا اور میں نے اسے روکا نہیں جب تک کہ میں نے دیکھ نہ لیا کہ بالا رادہ ایسا کر رہا ہے تاکہ جب میں کھڑا ہوں تو نگا ہو جاؤں اور لوگوں میں میری سکی ہو۔پر میں نے اسے ڈانٹا اور کہا تو جانتا نہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے عبد القادر بنایا ہے اور کہا کوئی ہے۔اس پر معلوم ہوا کہ ہجوم میں بھی بعض اس کے ساتھی ہیں جو حملہ آور ہونا چاہتے ہیں لیکن جب میں نے کہا کہ کوئی ہے تو دو نوجوان لڑکے جن کے ابھی داڑھی نہیں اُگی تھی آگے بڑھے۔میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے کہا ہٹ جاؤ اور ایسا معلوم ہوا گویا سب کو گرفتار کر کے ایک طرف کھڑا کر دیا گیا ہے۔مجھے خیال ہوا کہ کہیں یہ غیر احمدی یہ نہ سمجھیں کہ میں نے اس شخص کو یونہی ڈانٹا۔اس پر میں انہیں کہتا ہوں کہ اس نے پہلے بھی دو بار ایسا کیا مگر میں نے حسن ظن سے کام لیا اور تیسری دفعہ معلوم کیا کہ اس کا مشاء یہ ہے کہ مجھے تنگا کرنا چاہتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ میں کون ہوں۔تب اسی وقت رویا میں ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ عبد القادر سے مراد یہ ہے کہ بندہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے سب کام اللہ تعالی کے لئے ہو جاتے ہیں اور کوئی خواہ کتنا طاقت در کیوں نہ ہو اس پر حملہ نہیں کر سکتا حملہ ہمیشہ کنزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے مگر جس کا کھانا پینا پہننا بھی عبادت ہو جائے اس پر حملہ کرنا خدا پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔الفضل 5 فروری 1933ء صفحہ 8۔نیز دیکھیں۔الفضل 4۔ستمبر 1937ء صفحہ 1438 - اگست 1984ء صفحہ 4