رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 98

98 165 جنوری 1930ء فرمایا : پچھلے سال جب انہی دنوں میں ڈلہوزی گیا تو وہاں میں نے ایک رؤیا دیکھی کہ میں لاہور گیا ہوں اور کالجوں کے تمام طلباء میں دہریت پھیل رہی ہے اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کے متعلق مجھ سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ ہمیشہ یہ بات کہا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے قرآن سکھاتا ہے اور ہر اعتراض کا جواب سمجھاتا ہے یہ گروہ جو اس وقت کوشش کر رہا ہے کہ خدا تعالٰی کی ہستی کو مشتبہ کر دے اسے اس وقت کیا جواب دوں جو تسلی بخش ہو۔میں جو اب سوچتا ہوا ٹہل رہا ہوں کہ اس عرصہ میں یکدم ایسا معلوم ہوا کہ آسمان سے میرے قلب میں ایک کھڑکی کھلی ہے جس سے مجھے اطمینان ہو گیا کہ ان کو اب میں سمجھا سکوں گا۔اس سے تھوڑی دیر کے بعد ان کا پیغام آیا کہ ہماری تسلی ہو گئی ہے اب ہم آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتے۔الفضل 24۔جنوری 1931ء صفحہ 7 اگست تا ستمبر 1930ء 166 فرمایا : شملہ میں مجھے خواب میں ایک بہت بڑے ہندو لیڈر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ دل سے مسلمان ہیں اور جب اس سے بات چیت ہوئی تو اس نے کہا کہ فلاں ہندو لیڈر بھی مسلمان ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ دل سے مسلمانوں کے ہمدرد ہوں اور یا اب خداتعالی ان کے دل میں یہ ڈال دے کہ مسلمانوں کا خیال رکھنا چاہئے وہ لیڈر گول میز کانفرنس کے ممبر بھی ہیں۔الفضل 13۔لو مہر 1930ء صفحہ 7 167 غالبا جون 1931ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ سلسلہ کے راستہ میں بعض مشکلات درپیش ہیں۔میں نے دیکھا بعض دوستوں نے ان کے ازالہ میں کو تاہی کی اور رویا میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ دشمنوں کی شرارتوں سے خوف کھا رہے ہیں۔تب اچانک میں نے دیکھا کہ دشمنوں میں سے ایک نے وار کیا لیکن اللہ تعالٰی نے ایسے غیر معمولی سامان پیدا کر دئیے کہ وہی وار الٹ کر اس پر جا