رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 53

53 89 غالبا 1918ء فرمایا : میاں چراغ دین صاحب کے ایک لڑکے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی والے بھی پیغامیوں میں شامل ہو گئے تھے۔ان کے متعلق میں نے ایک دفعہ دعا کی تو میں نے رویا میں دیکھا کہ قادیان آئے ہیں اور میں نے انہیں ایک چارپائی پر لٹایا ہے اور کپڑا اٹھا کر میں نے ان کے پیٹ پر چھری پھیر دی ہے۔پھر خواب میں ہی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے توبہ کرلی ہے۔میں نے یہ رویا میاں چراغ دین صاحب کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔اس رویا کے چند دن بعد ہی حکیم محمد حسین صاحب نے بیعت کر لی۔الفضل 29۔نومبر 1957ء صفحہ 2 +1919 90 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہی میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم کا ہوا۔پھر جوش میں آکر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں که دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل دو قائم مقام کھڑے کر دیئے یہ ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہو جانا چاہئے۔عرفان الہی صفحہ 19( تقریر جلسہ سالانہ۔مارچ 1919ء) (شائع کردہ نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف ربوہ) 91 +1919 فرمایا : مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ قوم کی زندگی کی علامتوں میں سے ایک علامت شعر گوئی بھی ہے اور میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم شعر کہا کرو یہی وجہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر نظمیں پڑھنے کے لئے بھی وقت رکھا جاتا ہے اور میں نظم کو پسند کرتا ہوں شعر کہتا رہا ہوں اور رویا میں مجھے بتایا گیا ہے کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو شعر کہنے کی تحریک کروں مگر ان ہی باتوں کی وجہ سے مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ اشعار ایسے طریق سے پڑھے جائیں کہ زبان خراب