رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 544

544 سامنے ایک پولیس کا افسر ہے اس نے آنکھ سے ایک اور شخص کو جو وکیل معلوم ہوتا ہے اشارہ کیا کہ ذرا ان کی نگرانی رکھو۔اتنے میں مجھے معلوم ہوا کہ عدالت میں میرے اس طرح نکلنے پر ہتک عدالت کا سوال اٹھایا گیا ہے اور شیخ بشیر احمد صاحب اس اعتراض کا جواب دے رہے ہیں مجھے ان کی آواز آئی کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے موکل پر اس عدالت میں حملہ کیا گیا اور اسے گرا دیا گیا مگر جب وہ اپنی حفاظت کے لئے کمرہ سے باہر نکل گیا تو اسے ہتک عدالت کا نام دیا جاتا ہے جب ان کی یہ آواز آئی تو اس پولیس افسر نے جو میرے ساتھ بیٹھا تھا پھر آنکھ سے دوسرے شخص کو اشارہ کیا جس کا میں یہ مطلب سمجھا کہ اب ان کی نگرانی کی ضرورت نہیں اس وقت میں اتر کر بازار میں چل پڑا ہوں تاکہ گھر جاؤں وہ شخص جسے پولیس افسر نے میری نگرانی پر مقرر کیا تھا معلوم ہوتا ہے وکیل ہے اور شریف الطبع ہے وہ میرے ساتھ چل پڑا مگر نیک نیتی سے یعنی میری حفاظت کی نیت ہے۔کچھ دور چلنے پر مجھے معلوم ہوا کہ کچھ اور احمدی ساتھ ہیں اور آگے آگے چل رہے ہیں میں نے اس کھلی جگہ پہنچ کر یہ خیال کیا کہ لوگ اس شخص کو میرے ساتھ دیکھ کر اس کے مخالف ہو جائیں گے اسے کہا کہ آپ جائیں ہم لوگ تو ایسی مخالفت کے عادی ہیں آپ کو میرے ساتھ دیکھ کر لوگ آپ کے بھی مخالف ہو جائیں گے اس پر وہ شخص حقارت کی ہنسی ہنسا اور کچھ ایسی بات کی کہ میں حق کے لئے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتا چونکہ آپ کو خطرہ ہے اس لئے میں ساتھ ہوں تھوڑی دور سڑک پر چل کر شہر کی گلیاں آگئیں اور میں چند دوستوں کے ساتھ ادھر کو مڑ گیا۔یہ رویا حملہ سے ایک ماہ پہلے کی ہے اور بعض دوستوں کو سنادی گئی تھی اس وقت جو لوگ مسجد میں تھے انہوں نے بتایا کہ حملہ کے معابعد ایک شخص مسجد سے نکل کر بھا گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کا کوئی اور ساتھی بھی تھا جو نتیجہ کی رپورٹ لینے کے لئے ساتھ آیا تھا یا الگ بھجوایا گیا جب اس نے دیکھا کہ حملہ پوری طرح کامیاب نہیں ہوا تو وہ بھاگا اس کے بعد بعض دوستوں نے رپورٹ کی کہ ایک جیپ جس میں بعض مودودی لوگ تھے چنیوٹ کے پاس کھڑی ہوئی دیکھی گئی جو حملہ کے ایک گھنٹہ کے بعد وہاں سے لاہور کی سڑک پر روانہ ہو گئی بعض واقف کاروں نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کے تعلقات بعض مودودی مولویوں سے بھی تھے) الفضل 26۔تمبر 1954ء صفحہ 4