رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 520
520 نمبرا نمبر 2 پہلی تختی پر جو نشان ہیں مجھے بتایا گیا کہ یہ اخلاقی اصولوں کے نشان ہیں جو حصہ ہاتھ میں پکڑنے والا ہے جہاں کی لکیریں درمیان میں آکے رک جاتی ہیں وہ اخلاق کے متعلق ہیں اور دوسری سختی روحانیت کا نقشہ کھینچتی ہے اس رنگ کا نقشہ بنا ہوا ہے جیسا کہ پیانو وغیرہ باجوں کا نقشہ ہوتا ہے مگر ان میں تو سوراخ ہوتے ہیں ان کی لکیریں جہاں دکھائی گئی ہیں وہاں سوراخ نہیں ہیں صرف گڑھے دار لکیریں بنی ہوئی ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ گویا انسانی روح ایک لکیر سے شروع ہو کر اس کے آخر تک چلی جاتی ہے اور وہ اس حصہ کا علم حاصل کر لیتی ہے پھر دوسری سے شروع کر کے آخر تک چلی جاتی ہے اور اس حصہ کا علم حاصل کر لیتی ہے۔علیٰ ہذا القیاس۔اور یہی طریقہ روحانی سختی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔پھر مجھے بتایا گیا کہ انسانی روحیں مختلف مدارج میں بعض دفعہ کچھ اخلاقی مسائل پر عبور کرلیتی ہیں اور بعض دفعہ سارے اخلاقی مسائل پر عبور کر لیتی ہیں اور بعض روحانی لوگ روحانی سختی کے بعض حصوں پر عبور کر لیتے ہیں مگر یہ روحانی لوگ کچھ اخلاقی حصوں پر بھی عبور کر لیتے ہیں گو اخلاقی لوگوں کے لئے ضروری نہیں کہ کچھ روحانی امور پر بھی عبور کریں۔پھر مجھے بتایا گیا کہ ایک وجود ایسا بھی ہے جس نے سارے ہی اخلاقی امور پر بھی عبور کیا ہے اور سارے ہی روحانی امور پر بھی عبور کیا ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود ہے آپ کا کمال یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ نے ساری شقوں پر عبور حاصل کیا ہے بلکہ ہر شق کے ماہروں سے بھی آپ او پر نکل گئے ہیں گویا انفرادی تحمیل بھی آپ کو حاصل ہے اور مجموعی تکمیل بھی آپ کو حاصل ہے یہ وہ مضمون ہے جو اس وقت میرے دل میں ڈالا گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اسے خطبہ میں بیان کروں گا جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں چوہدری صاحب سے کہہ دوں کہ وہ خطبہ دیں تو ساتھ ہی میں نے خیال کیا کہ یہ مضمون لمبا ہے ایک خطبہ میں بیان نہیں ہو