رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 486

486 لگو لیکن فرض کرو کہ میں ایسا ہی برا ہوں تب بھی وہ بات جو میں نے تمہیں کسی ہے وہ تمہارے ملک کے فائدہ کی ہے اگر وہ بات تمہاری سمجھ میں آتی ہے تو اس پر عمل کرو اب میں پھر تم کو بلاتا ہوں تم آؤ اور میرے ساتھ مل کر اس فتنہ کا ازالہ کرو۔میں نے اپنے دل میں سمجھا تھا کہ جو خوف اور ڈر ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا ہے اس کی وجہ سے پھر نوجوان میرے ساتھ مل جائیں گے مگر میں نے دیکھا کہ وہ ڈرتے تو تھے مگر میرے ساتھ ملنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے ان میں سے صرف دو تین نوجوان آئے اور ان کو لے کر میں نہر کے پار گزر گیا اور ان کو اس سڑک کی طرف لے گیا جدھر سے وہ لوگ جن کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں گزرے تھے اور جس طرف میں سمجھتا ہوں کہ میرا گھر واقع ہے اس وقت کچھ سایہ سا ہے جیسے شام کا سایہ ہو جاتا ہے یا بادلوں کا سایہ ہو تا ہے میں ان نوجوانوں کو لے کر گھر کی طرف سڑک پر تیز قدم چلا جاتا ہوں اور ساتھ ساتھ کہتا جاتا ہوں کہ یہ خیال نہ کرنا کہ چونکہ تم نے صداقت قبول کرلی ہے اس لئے تمہارے لئے کوئی بڑی دولتوں اور حکومتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔میں تم سے کسی دولت یا کسی حکومت کا وعدہ نہیں کرتا۔میں تو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ صداقت کے قبول کرنے کی وجہ سے تم کو ماریں بھی پڑیں گی تم کو گالیاں بھی سنی پڑیں گی تم کو تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے میں تم کو بلاتا ہوں لیکن دنیوی مال اور دولت کے لئے تم کو نہیں بلاتا اور مومن کے لئے یہی بڑی راحت کی چیز ہوتی ہے کہ وہ خدا کے لئے دکھ اور تکلیف اٹھاتا ہے۔اس سے بڑھ کر وہ کسی اور چیز میں اپنی کامیابی نہیں سمجھتا وہ نوجوان میرے دائیں بائیں دوڑتے چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کچھ کہا نہیں مگر میرا ساتھ نہیں چھوڑا اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 30۔اکتوبر 1951ء صفحہ 4-3 528 13۔ستمبر 1951ء فرمایا : رات کو میں نے ایک رؤیا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ میں کہیں سے آرہا ہوں وہ بازار ہے یا گلی ہے جہاں کہیں جا رہا ہوں۔میں نے اس کے پہلو میں ایک مکان دیکھا جہاں میں جانا چاہتا ہوں معین صورت میں مجھے یاد نہیں کہ میں اس مکان میں کیوں جانا چاہتا ہوں اس مکان کا جو