رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 468
468 تسلسل میں ہے۔الفضل 23۔نومبر 1950ء صفحہ 4 جنوری 1951ء 513 فرمایا : میں نے روس کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا جو امریکہ میں شائع ہوا اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ مقبولیت حاصل کر رہا ہے اس کے بعد رات میں یہ الہام ہوا۔سُورُ زَنْدَ الَّتِي انْهَدَمَتْ وَسُوْرُ زَنْدَالَّتِي لَمْ تُهْدَمَ سور کے معنے دیوار کے ہوتے ہیں لیکن عربی میں یہ لفظ مذکر استعمال ہوتا ہے مگر اس الہام میں صلہ مونث استعمال ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سور کو زندگی کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور شہر اور وادیاں عربی زبان میں مونث سمجھی جاتی ہیں اور جب کسی لفظ کو کسی دوسرے لفظ کی طرف مضاف کیا جائے تو جائز ہوتا ہے کہ مضاف الیہ کے مطابق ہی اس کی تذکیر و تانیث قرار دی جائے جیسے قرآن شریف میں آتا ہے کہ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ (البقرة : (70) لون مذكر ہے لیکن تَسُر میں مؤنث کی ضمیر اس کی طرف پھیری گئی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ تھا کی طرف لونُ مضاف ہے اور مضاف الیہ چونکہ مونث تھا اس لئے مضاف کو بھی مٹئونٹ ہی قرار دیا گیا۔اس الہام کے معنے یہ ہیں کہ زند کی وہ دیوار جو ٹوٹ گئی ہے اور زند کی وہ دیوار جو ابھی نہیں ٹوٹی۔یہ الہام بھی میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا تھا۔اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ روس کے دو حملے متمدن دنیا پر ہوں گے جن میں سے ایک حملہ شروع ہو گیا ہے لیکن دوسرا اور اصل حملہ ابھی شروع نہیں ہوا اس سے نتیجہ نکالتا ہوں کہ کو ریا کی جنگ کو جو اہمیت دی جارہی ہے اتنی اہمیت اس جنگ کو حاصل نہیں بلکہ اصلی حملہ کے لئے روس ابھی کچھ دن اور انتظار کرے گا اور اس کا اصل اور اہم مقام غالبا ایران کی سرحدیں ہوں گی یا اس کے ساتھ ملتا ہوا علاقہ کیونکہ زند کا شہر اور زند کی وادی بخارا کے علاقہ میں ہے۔الفضل یکم فروری 1951ء صفحہ 2 514 جنوری 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں اور گویا میرے ساتھ ریاست قنوج کے کچھ