رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 438
438 میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔الفضل 25۔نومبر 1949 ء صفحہ 4 -3 489 نومبر 1949ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ جب تک تم لوگ دجال کو نہ مار لو اس وقت تک تم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے جب میں نے یہ فقرہ کہا تو میں نے دیکھا کہ جماعت کے لوگوں کے چہرہ پر ایک افسردگی سی آگئی اور یوں معلوم ہوا جیسے وہ سمجھتے ہیں کہ دقبال کا مارنا تو بڑا مشکل کام ہے اس لئے ہماری ترقی بھی ایک موہوم چیز ہے۔تب میں نے ان سے کہا دیکھو جب خدا تعالٰی نے یہ فرمایا کہ جب تک تم دجال کو نہ مار لو تم دنیا پر غالب نہیں آسکتے تو خدا تعالیٰ کا منشاء اس بات پر زور دینے کا نہیں تھا کہ تمہاری ترقی موہوم ہے بلکہ اللہ تعالی اس بات پر زور دینا چاہتا ہے کہ تم جلد سے جلد کو شش کر کے دقبال کو مار لو۔پس مایوس ہونے کی وجہ نہیں بلکہ اپنے فرض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔الفضل 25 نومبر 1948ء صفحه 4 نومبر 1949ء 490 فرمایا : جلسہ سرگودھا کے بعد میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کمرہ میں ہوں اور ایک شخص نے سات آٹھ گنے رسی میں باندھے ہوئے میرے سامنے لا کر رکھے ہیں اور کہا ہے کہ یہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے بھیجے ہیں اس کے بعد اس نے نہایت خوبصورت زمردی رنگ کا ایک حملہ سا میرے آگے رکھا اور اس میں ایک اور چیز اس کے سائز کی پڑی ہوئی ہے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا عبد الحق صاحب میرے پاس کھڑے ہیں وہ آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔وہ شخص کہتا ہے کہ یہ بھی گئے ہیں۔یہ برازیل کے گئے ہیں۔انہیں تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کے گنے ہیں نہایت خوبصورت گنے کی شکل کی چیز ہے اور اس کے اندر ایک اور چیز ہے جو لیپ کے گلوب کی طرز کی معلوم ہوتی ہے۔اس رنگ کی خوبصورت سی چیز پڑی ہے لیکن وہ شخص کہتا ہے کہ یہ برازیل کے گئے ہیں۔اس بات کے بعد مرزا عبد الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ہفتہ سے میں لوگوں کے گھروں پر جایا کروں۔میں اس کے معنے یہ