رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 417

417 خاطر اور جماعت احمدیہ کی خاطر اور اس کے غرباء کی خاطر اس بلاء سے نجات دے۔عربی میں غرباء کے معنے مسافروں کے ہوتے ہیں اور اردو میں غرباء کے معنے مسکینوں کے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانے کہ اس جگہ اردو محاورہ استعمال کیا گیا ہے یا عربی محاورہ۔اور اس میں بعض مسافروں کی طرف اشارہ ہے۔بہر حال میں یہ دعا کرتا گیا اور میں نے دیکھا کہ امتہ المجمیل نے خود بخود خطرہ محسوس کر کے چھجے کی طرف سرکنا شروع کیا اور سرکتے سرکتے کئی گروہ دروازے سے پرے ہٹ گئی اتنے میں سانپ اس دروازہ سے اتر کر امتہ الجمیل کی طرف متوجہ ہوا انگر چونکہ وہ کچھ دور ہو چکی تھی اس لئے اس کا پیچھا نہیں کیا بلکہ زمین کی طرف اترنا شروع کیا۔یہ رویا بظاہر بچی کے لئے نہایت مبارک ہے کیونکہ اس میں دعا ہے وہ میرے لئے ٹھنڈک کا موجب ہونے کے علاوہ جماعت اور غرباء کے لئے بھی مفید ہوگی۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ الفضل 19۔دسمبر 1948ء صفحہ 3 12/11۔ستمبر 1948ء 462 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں جو نہ قادیان معلوم ہوتی ہے اور نہ لاہور کا موجودہ مکان بلکہ کوئی نئی جگہ معلوم ہوتی ہے ایک کھلا مکان ہے جس کے آگے وسیع معلوم ہوتا ہے۔میں اس کے صحن میں کھڑا کچھ لوگوں سے باتیں کر رہا ہوں باتوں کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہے کہ قریب زمانہ میں مسلمانوں پر ایک بڑی آفت آئی ہے اور عنقریب کچھ اور حوادث ظاہر ہونے والے ہیں جو پہلی مصیبت سے بھی زیادہ سخت ہوں گے اور مسلمانوں کی آنکھوں کے آگے قیامت کا نظارہ آجائے گا۔یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دُور افق میں سے ایک چیزا ڑتی ہوئی نظر آئی اور یہ چیز ابو الهول کی شکل کی سی تھی اور اسی کی طرح عظیم الجثه معلوم ہوتی تھی۔ابو الهول کی طرح اس کی بنیاد بہت چوڑی تھی اور اوپر آ کے اس کا جسم نسبتاً چھوٹا ہو جاتا تھا میں نے دیکھا کہ اوپر کے حصہ میں بجائے ایک سرکے اس کے دو سر لگے ہوئے ہیں ایک سر ایک کو نہ پر ہے اور دوسرا سر دو سرے کو نہ پر اور درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی۔اس چیز کی جسامت اور ہیبت کو دیکھ کر میں نے قیاس کیا کہ یہی وہ بلاء ہے جس کے متعلق خبرپائی جاتی ہے اور میں نے ان لوگوں سے جن سے میں باتیں کر رہا تھا کہ وہ دیکھو وہ چیز آگئی ہے میرے