رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 403
403 اور میں نے کہا کہ قرآن کریم کی تفسیر کے بہترین اصول ان الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں (اصل آیت ان الفاظ میں نہیں ہے بلکہ یوں ہے یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ (النساء : 60) لیکن خواب میں میں اس طرح پڑھتا ہوں جس طرح اوپر بیان ہوا ہے خواب کے الفاظ میں شیئی کی جگہ امر ہے اور الرَّسُولِ کے بعد اولی الامر کے الفاظ بھی ہیں۔ان الفاظ کی تبدیلی سے آیت کی تفسیر کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کیونکہ شیئی اور امر کے الفاظ کے معنے تو ایک ہیں مگر امر کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آیت کے پہلے حصہ میں جو اولی الامر کے الفاظ ہیں وہ دوسرے حصہ میں بھی مراد ہیں ، صرف اختصار کے لئے حذف کر دئیے گئے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کے کئی اور مقامات پر بھی کیا گیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ تَنَازَعْتُمْ فِی الامر کے معنے گو دنیادی تنازع کے بھی ہیں مگر ایک معنے اس کے اور بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ امر کے معنے اس جگہ کلام الہی کے ہیں اور در حقیقت وہی اصل امر ہو تا ہے اور اس کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کن ذرائع سے دنیا میں ترقی حاصل کر سکتا ہے اور کن ذرائع سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے پس تَنَازَعْتُمْ فِی الاَمرِ کے معنی ہیں تَنَازَعْتُمْ فِي تَفْسِيرِ الْأَمْرِ يَا تَنَازَعْتُمْ فِی مَعْنِى الْأَمْرِ یعنی جب تمہیں کسی آیت کا صحیح مفہوم معلوم کرنے میں شبہ ہو جائے۔ایک کہے۔اس کے یہ معنے ہیں اور دوسرا کے اس کے یہ معنے ہیں تو فَرُدُّوهُ إلى الله تم اس اختلاف کے وقت سب سے پہلے یہ کام کیا کرو کہ اس آیت کو خدا تعالیٰ کی طرف لے جاؤ کہ وہ اس کو حل کرے اور پھر میں اس کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ احادیث میں اس مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کلامُ اللهِ يُفَسِرُ بَعْضَهُ بَعْضًا خدا تعالى کے کلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر کر دیا کرتا ہے۔پس جب تم میں کسی آیت کے معنے کے متعلق اختلاف پیدا ہو جائے تو تمہیں قرآن کریم کی دوسری آیتوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ مختلف معانی میں سے کس کی تائید کرتی ہیں پھر جس کی تائید کریں ہمارا فرض ہے کہ وہ سننے کریں اور جس کی تائید نہ کریں وہ معنے نہ کریں۔پھر میں نے کہا دوسری چیز الی الرَّسُول کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔یعنی اگر قرآن کریم کی آیات سے تم پر حقیقت واضح نہیں ہوتی تو فَرُدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ تم احادیث کو ٹولو اور دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ