رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 363

363 ہے کیونکہ بجلی کا لیمپ جو سر پر لٹک رہا ہے زور زور سے ہل رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ نے دو نشان دکھائے ہیں۔ادھر خواب میں بھی دو ملکوں کے بڑے افسروں کے مرجانے کا ذکر تھا اور ادھر زلزلے کے بھی دو جھٹکے آئے گو یا اللہ تعالی نے یہ یقین دلایا ہے کہ اگر ایسا ظلم ہو گا تو انگلستان اور ہندوستان دونوں جگہوں کے ظالموں پر تباہی آئے گی۔اس رویا سے معلوم ہوتا ہے شاید بعض پادری اور ان کے ہمد رد ہندوستان کی آزادی کے رستہ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں اور لوگوں کو راغب کرنے کے لئے ان لوگوں کی طرف سے مشہور کیا جائے کہ حکومت بھی ان کے ساتھ ہے اور اند ر سے ہندوستان کی آزادی کی حامی نہیں ہے کیونکہ رویا میں میر صاحب نے جن کو میں نے حکومت کا نمائندہ سمجھا ہے حکومت کو اس الزام سے بری قرار دیا ہے۔اور پادری صاحب کی حرکت کو غیر حکومتی کوشش قرار دیا ہے۔اس رویا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہندو مسلمان کی صلح ہونی چاہئے اور ایک دوسرے کی حفاظت انہیں کرنی چاہئے اور اسلام کی ترقی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ یہ کہنا کہ گاندھی جی تو ہمارے مہمان ہیں اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ کتنے بھی انقلابات آئیں آخر اسلام ہی جیتے گا کیونکہ مہمان کا لفظ عارضی طور پر آنے والے کے لئے بولا جاتا ہے پس اس فقرہ سے یہ مطلب ہے کہ ہندو مذہب ہندوستان میں عارضی ہے۔آخر اسلام ہی پھیلے گا اور ممکن ہے کسی وقت گاندھی جی بھی قادیان آئیں۔میں تو سیاسیات سے الگ رہنے کی کوشش کرتا ہوں سوائے اس کے کہ ہندوؤں کو بھی نیک مشورہ دے دیا اور مسلمانوں کو بھی نیک مشورہ دے دیا یا مصیبت زدہ کے حق میں اور ظالم کا ظلم روکنے کے لئے کسی کو تنبیہ کر دی اس سے زیادہ کبھی نہیں کیا۔مگر اب متواتر اس قسم کی خوابوں رویا اور کشوف سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ندو مسلم صلح کے لئے یا ہندوستان کی آزادی کے لئے کسی اقدام کے لئے دھکیل رہا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کس رنگ میں ہو گا آیا صرف دعاؤں کے ذریعہ سے یا نصیحت کے ذریعہ سے یا اس سے زیادہ کسی عملی اقدام کے ذریعہ سے جب وقت آئے گا خود یہ بات ظاہر ہو جائے گی۔بہر حال ہماری جماعت میں سے ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہئے اور پختہ عزم کر لینا چاہئے کہ کچھ بھی ہو وہ تبلیغ اسلام سے پیچھے نہ ہٹے گا۔آئندہ قریب کے زمانے میں بڑے بڑے تغیرات رونما ہونے الے ہیں اور وہ وہ باتیں بھی آنے والی ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں