رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 309
309 شروع کی اس وقت میں نے گھر سے جھانک کر دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے مگر منہ مشرق کی طرف تھا۔رکوع کی حالت میں میں نے انہیں دیکھا اور ان کے پہلو میں ان کی سالی زہرا بیگم بھی نماز میں شامل تھیں۔میں نے اس وقت دیکھا کہ دونوں نے جوتیاں پہنی ہوئی ہیں جو دہلی کی طرف کے طلائی کام والی خوبصورت جوتیاں ہیں ان کی خوبصورتی نہایت نمایاں ہے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ خواب میں ہی میں چوہدری صاحب کو یہ خواب سناتا ہوں اور کہتا ہوں کہ خواب اچھا ہے یعنی انجام اچھا ہو گیا ہے۔الفضل 9۔مارچ 1946 ء صفحہ 2 382 اوائل مارچ 1946ء فرمایا : تین چار دن ہوئے میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی عبد الرحمان صاحب مصری کا ذکر آیا ہے اور میرے دل میں ان کے لئے دعا کی تحریک بڑے زور سے ہوئی۔میں اس وقت چار پائی پر قبلہ رخ بیٹھا تھا فور اُسجدہ میں گر گیا اور نہایت عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہدایت دے اس دعا کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ دعا قبول ہو گئی ہے اس پر میں نے سجدہ سے سرا ٹھایا اور میرے دل میں یقین تھا کہ اب شیخ صاحب کھنچے ہوئے وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔میں نے دائیں اور بائیں دیکھا لیکن وہ نظر نہیں آئے اس وقت چوہدری فتح محمد صاحب اس کمرہ میں داخل ہوئے اور میں نے ان سے کہا کہ میں نے اس طرح دعا کی تھی اور مجھے یقین تھا کہ اس دعا پر وہ کھنچے ہوئے آگئے ہوں گے مگر میں نے سراٹھا کر دیکھا تو وہ نہیں آئے۔یہ کہہ کر میں باہر آیا کہ ایک ایسی جگہ ہے جیسے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کا صحن ہے اس جگہ میں میں ایک شخص کے ساتھ جو غالبا عزیزم مرزا بشیر احمد ہیں مل رہا ہوں کہ اتنے میں شیخ صاحب وہاں آگئے اور عقیدت کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ تائب ہو گئے ہیں۔اس وقت پھر مجھے چوہدری فتح محمد صاحب نظر آئے ہیں انہیں مخاطب کر کے میں نے کہا دیکھئے میں نے آپ سے کہا تھا کہ شیخ صاحب کے لئے میں نے دعا کی اور مجھے یقین تھا کہ وہ قبول ہو گئی ہے لیکن جب میں نے سراٹھا کر دیکھا تو وہ نہیں آئے لیکن اب وہ آگئے ہیں اور میری دعا قبول ہو گئی ہے۔اس کے بعد نظارہ بدلا اور میں نے دیکھا کہ میں کہیں با ہر ہوں اور ایک بڑے فراخ کمرہ میں