رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 308

308 380 $1946 فرمایا : قریباً تین ہفتہ ہوئے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی طرف سفر کر رہا ہوں کہ بغیر امید کے میں نے اپنے آپ کو مدینہ منورہ میں پایا اور اس بات پر بے انتہاء خوش ہوں۔مسجد نبوی یا اس کے پاس کی کسی وسیع عمارت کے صحن میں ہم سب جن میں گھر کی بعض مستورات بھی معلوم ہوتی ہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس غیر مترقب کامیابی پر خوش ہیں کہ اتنے میں میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ مکہ مکرمہ بھی ہوتے چلیں اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ریل کا سلسلہ جاری ہے اور میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا کرایہ کیا ہے اس شخص نے بتایا تیرہ روپے۔میں اس وقت خواب میں اس کرایہ کو کم سمجھتا ہوں لیکن پھر میں دل میں حساب کرنے لگا کہ دونوں شہروں کا فاصلہ قریبا تین سو میل ہے اس لئے ہندوستان کے کرایہ کے اصول پر تو تھرڈ کلاس کا کرایہ اس سے کم بنتا ہے۔صرف اس ملک کی مشکلات کی وجہ سے یہاں کرایہ زیادہ رکھا گیا ہے۔اس عرصہ میں میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 9۔مارچ 1946 ء صفحہ 1-2 381 فروری 1946ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں مسجد مبارک میں ہوں اور محراب میں بیٹھا ہوں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی میرے پاس ہیں کچھ مقتدی بھی ہیں ان میں چوہدری صاحب کے ماموں چوہدری عبد اللہ صاحب مرحوم و مغفور ( اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے) وہ بھی بیٹھے ہیں چوہدری صاحب سے ایک نا پسندیدہ حرکت ہوئی جس پر میں جلدی سے نماز کے لئے کھڑا ہو گیا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف سے ہٹ جائے مگر چوہدری عبد اللہ خان صاحب مرحوم نے ان کو اپنے زمیندارہ طریق پر جیسا کہ ان کی عادت تھی ایک طنز آمیز لہجہ میں تادیب کی۔اتنے میں میں نے نماز شروع کر دی چوہدری صاحب اس وقت مسجد سے چلے گئے ہیں۔میں نماز پڑھا کر گھر آگیا وہ واپس آگئے اور میں نے انہیں کہا کہ آپ نماز پڑھ لیں انہوں نے مسجد میں نماز