رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 260
260 دکھایا گیا ہے اور دوسری طرف مردہ بچہ کا پیٹ چاک کیا گیا ہے۔میں اسی سوچ میں تھا کہ نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرنے کے بعد ابھی آدھا منٹ بھی نہیں گذرا ہو گا کہ نواب عبد اللہ خان صاحب نے (امتہ الوکیل ان کی نواسی تھی) فون کیا کہ ابھی ابھی لاہور سے فون آیا ہے کہ و یکی" کی حالت بہت نازک ہے اور مجھے وہاں بلایا ہے۔اگر وہ فوت ہو جائے تو دفن کرنے کے متعلق آپ کا کیا مشورہ ہے یہاں لے آئیں یا وہیں دفن کردیں۔میں نے کہا۔بچہ ہے یہاں لے آئیں یا وہاں دفن کر دیں مگر ماں کے احساس کا خیال رکھ لیں اور جس طرح وہ کہے اسی طرح کریں اس وقت یہ پتہ نہیں تھا کہ بچی فوت ہو جائے گی بعض دفعہ مرتے مرتے بھی انسان بچ جاتا ہے اس لئے اس وقت میرا ذہن اس طرف نہیں گیا۔کہ خواب میں اس کی طرف اشارہ ہے مگر اشاره۔بعد میں جب وفات کی خبر آئی تو معلوم ہوا کہ خواب اسی کے متعلق تھی۔خواب میں پاخانہ دیکھنے سے مراد روپیہ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ ”ویکی" کے علاج پر جو روپیہ خرچ ہو تا رہاوہ روپیہ کا ضیاع تھا دراصل وہ مرہی چکی تھی۔اور جو مردہ کا اپریشن دکھایا گیا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہسپتال میں جو اس کا اپریشن ہو تا رہا وہ دراصل ایک مردہ کا ہی اپریشن ہوتا رہا۔الفضل 5 - نومبر 1944ء صفحہ 4 -3 332 نومبر 1944ء فرمایا : کوئی دس پندرہ دن ہوئے میں نے ایک رویا دیکھا میں نے دیکھا کہ جیسے میں دہلی میں ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کام میرے سامنے ہے۔یہ یاد نہیں کہ وہ کام کیا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کوئی کام ہے جس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر لطیف صاحب اور ان کی بیوی امینہ بیگم جو میری نسبتی بہن ہیں یہ دونوں آئے ہیں اور انہوں نے ایک گٹھڑی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور کہتے ہیں کہ صوفی عبد الغفور صاحب بھیروی جنہوں نے کسی وقت اپنے آپ کو وقف بھی کیا تھا یہ گٹھڑی ان کی طرف سے ہے۔ان کو معلوم ہوا ہے کہ آپ کو کسی کام کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے اس لئے انہوں نے جو کچھ ان کے پاس تھا اس گٹھڑی میں باندھ کر آپ کی خدمت میں بھیج دیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو ہم بھی اپنی طرف سے نذر پیش کریں لیکن میں ان کو منع کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ نہیں اس کی ضرورت نہیں