رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 256

256 یوں لکھنا تھا اور انہوں نے بھی اسے سختی سے ڈانٹا اور کوئی سخت لفظ کہہ کر کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔میں نے دیکھا اس وقت کچھ اور احمدی بھی وہاں آگئے ہیں ان میں سے ایک نیک محمد خاں صاحب افغان تھے میں ان سے کہتا ہوں کہ اسے اٹھا کر یہاں سے لے جاؤ چنانچہ انہوں نے اس کی ٹانگیں پکڑیں اور ایک اور شخص نے اس کا سر پکڑا اور وہ اسے اٹھا کر لے گئے اس وقت اس کی زنجیر زمین کے ساتھ گھسٹتی جاتی ہے اس کے بعد میں پھر پائنتی کی طرف کے علاقہ میں گیا اور میرے ذہن میں آیا کہ اور تو سارے رشتہ دار یہاں جمع ہو گئے ہیں مگر منور احمد یہاں نہیں ہے وہ حیدر آباد میں ہے اس پر میں نے نیک محمد صاحب سے کہا کہ فور آثار گھر جاؤ اور منور احمد کو تار دو کہ فوراً آ جاؤ وہ جانے لگے تو میں نے کہا عام طور پر فور آ کے معنے فورآ آجانا نہیں سمجھتے بلکہ خیال کر لیتے ہیں کہ بلانے کے لئے تاکید کی ہے اس لئے تار میں یہ الفاظ لکھوانا کہ پہلی گاڑی سے آجاؤ اور پھر خیال آیا کہ اس میں پورا زور نہیں اور کہا کہ By First Train without fail اس پر وہ تار دینے کے لئے دوڑے اور میں اس خیال سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کوئی اور آدمی نہیں آپ کی طرف چل دیا مگر اس وقت مڑ مڑکر نیک محمد صاحب کو بتاتا جاتا ہوں کہ یہ الفاظ ضرور لکھنا By First Train without fail اور نیک محمد صاحب دوڑے جاتے ہیں اور جواب دیتے جاتے ہیں کہ میں سمجھ گیا ہوں میں سمجھ گیا ہوں یہی الفاظ لکھوں گا جب میں واپس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کوئی آدمی نہیں اور کچھ اندھیرا سا بھی ہو گیا ہے جیسے شام کا وقت ہوتا ہے مگر ایک طرف جو دیکھا تو دو لڑکیاں نظر آئیں جن میں سے ایک کو میں ہمشیرہ مبارکہ بیگم کی ملازمہ سمجھتا ہوں اور دوسری کو ہمشیرہ امتہ الحفیظ کی ملازمہ سمجھتا ہوں اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ان کو پہرہ کے لئے مقرر کیا گیا ہے اس وقت تکیہ کے سہارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح بیٹھے ہیں کہ گویا نماز پڑھ رہے ہیں اور میں خوش ہو تا ہوں کہ اب آپ کی طبیعت آگے سے اچھی ہے اتنے میں ہمارے گھر کے بچے جو 5-4-3 سال کی عمر کے ہیں صحن کی طرف نکل آئے اور ان کے آنے سے میں نے سمجھا کہ گھر کے لوگ یہیں ہیں مجھے اس وقت وہاں بچوں کا شور کرنا اور کھیلنا ناگوار گذرا اور میں نے ان کو ڈانٹ کر وہاں سے ہٹا دیا اور پھر زنانہ میں اس مکان کے اندر گیا جہاں سے بچے آئے تھے تاکہ ان