رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 255

255 آرام میں خلل پڑے آخر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ سرہانے کھڑے ہو کر کانوں کے پاس آرام سے یہ بات کہہ دوں۔اس طرح آپ سن لیں گے۔اس کے بعد میں نے آپ کے کان کے پاس جھک کر آہستہ سے کہا کہ اس طرف آریہ ہیں جو کہتے ہیں کہ لیکھرام کا قتل نہیں بھولا تو نہیں آخر ہم نے اس کا بدلہ لیتا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنا نہیں پھر میں نے پہلے سے ذرا اونچی آواز میں یہی بات کی مگر پھر بھی آپ نے نہیں سنی اس پر میں نے پھر اونچی آواز بھی مگرپھر سے کہا کہ آریہ کہتے ہیں۔لیکھرام کا قتل ہمیں بھولا تو نہیں آخر ہم نے اس کا بدلا لیتا ہے اس پر آپ کی آنکھ کھل گئی مگر آپ نے کچھ کہا نہیں صرف یہ اشارہ فرمایا کہ میں نے یہ بات سن لی ہے اس کے بعد میں وہاں سے ہٹا تو ایک شخص آتا ہوا نظر آیا جو فقیرانہ لباس پہنے ہوئے تھا لمبا سا کرتا تھا ایک لوہے کا کڑا ہاتھ میں پہن رکھا تھا اور اس کی کمر سے لوہے کی زنجیر بندھی ہوئی تھی جو بہت لمبی تھی۔اور اس کا ایک حصہ زمین پر لٹک رہا تھا اس نے آکر کہا میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا علاج کروں گا مجھے اس کی شکل و صورت دیکھ کر اس کا یہ کہنا بہت برا لگا اور میں نے کہا۔نہیں۔تم نے علاج نہیں کرنا اس نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا۔مجھے وہ لائے ہیں پھر اس نے آگے بڑھ کر کچھ دم کیا جس کا کوئی اثر نہیں ہوا پھر اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کنپٹی پر اس طرح منہ رکھ دیا کہ گویا وہ خون چوسنا چاہتا ہے جس طرح خون چوسنے کے لئے مٹی کے آبخورے لگائے جاتے ہیں اسی طرح اس نے ہونٹوں کی شکل بنا کر کنپٹی پر رکھ دیئے یہ دیکھ کر مجھے بہت جوش آیا اور میں نے دل میں خیال کیا کہ اس طرح یہ کوئی نقصان نہ پہنچائے اور میں نے اسے سختی سے کہا کہ ہٹ جاؤ میں تم کو اس کی اجازت نہیں دیتا مگر وہ میرے کہنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور آنکھوں سے اس طرح اشارہ کرتا ہے کہ میں نے اجازت لی ہوئی ہے اس پر میں کود کر اس کے پیچھے آگیا اور اسے گردن سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔میں نے دیکھا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنکھ کھولی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا اس کو ہٹانے میں میں نے غلطی نہیں کی بلکہ اچھا کیا ہے اس پر مجھے دلیری پیدا ہو گئی اور میں نے اتنے زور سے اسے لات ماری کہ وہ چار پانچ قدم پرے جا پڑا اس وقت پھر اس نے کہا کہ مجھے تو ڈاکٹر صاحب نے علاج کی اجازت دی تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ڈاکٹر صاحب کو بھی محسوس ہو گیا ہے کہ اس شخص کو علاج کی اجازت دینا ٹھیک نہ