رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 248
248 ریل گویا موٹر کی طرح ہے کہ جہاں چاہتا ہوں اسے لے جاتا ہوں اور یہ دونوں ایسے تیز رفتار ہیں کہ ایک موڑ یا پل پر سے گزر جاتا ہوں تو یہ بھاگ کر اگلے موڑ یا پل پر جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس دوست کو غلطی لگی ہے کہ یہ جن ہیں اور مخالف ہیں بلکہ یہ دو فرشتے ہیں جن میں سے ایک کی شکل بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی سے ملتی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کے لئے مقرر کیا ہے جو ہر موڑ اور پل پر جو خطرہ کی جگہیں ہوتی ہیں دوڑ کر جا پہنچتے ہیں اور بھرے ہوئے پستول سے پہرہ دینے لگتے ہیں۔الفضل 3۔اگست 11944 30۔جولائی 1944ء 318 فرمایا : جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو دیکھا کہ حضرت (اماں جان) کا خط میرے نام آیا ہے (حالانکہ حضرت اماں جان اس وقت ڈلہوزی میں ہمارے پاس ہی ہیں) اور اس پر میرے نام کے ساتھ یہ دعائیہ کلمات لکھے ہیں۔أطالَ اللَّهُ بَقَاءَهُ وَأَطْلَعَ شُمُوسَ طَالِعِهِ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی بقاء کے دن لمبے کرے اور اس کی قسمت کے سورجوں کو چڑھائے عجیب بات ہے کہ جمعرات کے دن جو الفاظ اللہ تعالیٰ نے فرمائے ان میں بھی سلامتیوں " کا لفظ ہے اور اس جگہ بھی سورجوں" کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کئی میدانوں میں کام لینا چاہتا ہے پس مقابلہ کے ہر میدان کے لحاظ سے الگ الگ قسم کی سلامتی اور ہر ظلمت کے لحاظ سے الگ الگ سورج کا ذکر فرمایا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - الفضل 3 - است 1,1944 جولائی 1944ء 319 فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک مکان ہے مگر اس کی شکل ہمارے اس مکان سے نہیں ملتی کو میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والا مکان ہی ہے میں اس مکان میں ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیر افتخار احمد صاحب جو صوفی احمد جان صاحب مرحوم