رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 204

204 ہے بلکہ میں انہیں صرف اشارہ کرتا ہوں اور وہ میرے اشارہ پر حرکت کر کے ایک لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کے مقابل میں مجھے اور ایک جماعت بھی نظر آتی ہے اس وقت میرے ذہن میں یہ بات نہیں کہ وہ ملائکہ ہیں یا گذشتہ بزرگوں کی ارواح ہیں ان کے لباس ایسے ہی ہیں جیسے ہماری جماعت کے افراد کے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جیسے صوفیاء کہا کرتے ہیں کہ ہر انسان کا ایک ہم زاد ہوتا ہے اسی طرح وہ ہیں۔شکل ان کی ویسی ہی ہے لیکن وہ ہلکے نظر آتے ہیں جیسے ان کے اور ہمارے درمیان کوئی ہلکا سا حجاب حائل ہو تا ہے جیسے ہلکی کہر ہوتی ہے جب میں ان کو اشارہ کرتا ہوں کہ اپنی صف سیدھی کرو تو دوسرا گروہ جس کی اتنی ہی تعداد ہے جتنی ہماری جماعت کے افراد کی اور جس کے ویسے ہی لباس ہیں جیسے ہمارے اور جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ شاید ارواح ہیں یا فرشتے ہیں وہ بھی میرے اشارہ پر اپنے آپ کو سیدھا کرتے ہیں۔سیدھے ہونے کے لحاظ سے ان کی قطار بھی سیدھی ہے لیکن رویا میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس وقت ہماری جماعت کے افراد دوسری صف کے متوازی آجائیں گے اس وقت انہیں تکمیل حاصل ہو جائے گی۔اس کے بعد میں نے جو آخری نظارہ دیکھا وہ یہ تھا کہ میں اس طرح کھڑا ہوں کہ میرا منہ جنوب کی طرف ہے دائیں طرف اپنی جماعت کھڑی ہے اور بائیں طرف ملائکہ یا بزرگوں کی ارواح ہیں جب میں اشارہ کرتا ہوں تو یہ بھی لائن بناتے ہیں اور وہ بھی لائن بناتے ہیں لیکن اصل چیز جس کا خواب میں مجھے احساس ہے وہ یہ ہے کہ ان کی لائن جب ان کی لائن کے متوازی ہو جائے گی تب جماعت کی روحیں مکمل ہوں گی۔پس وہ آخری نظارہ جس کے بعد میری آنکھ کھل گئی یہ تھا کہ ہماری جماعت سیدھی لکیر میں تو کھڑی ہو گئی لیکن اس لائن کا دوسری سے کچھ معمولی سا فرق ہے۔ہماری جماعت کے افراد نے جو یہ لائن بنائی ہے وہ بالکل سیدھی ہے مگر شمال سے جنوب کی طرف جاتی ہے اور وہ فرشتے یا ارواح جو دوسری طرف کھڑے ہیں انہوں نے جو لائن بنائی ہے وہ جنوب مغرب سے شمال مشرق کو جاتی ہے لیکن زاویہ کا فرق زیادہ نہیں۔تھوڑا ہی ہے اس کے بعد میں پھر جماعت کے دوستوں کو اس زاویہ پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جب میں اپنی جماعت کو اس زاویہ پر لے آؤں گا تو پھر ان کی تکمیل ہو جائے گی۔فرمایا : میں نے یہ رویا پرسوں دیکھی اور کل صبح ہی افریقہ سے مولوی نذیر احمد صاحب کا