رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 177

177 کیوں ایسی بے توجہی سے کام لیا گیا ہے کہ ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا کہ وہ یہاں آئیں اور مجھ سے ملیں۔مولوی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں وہ اس وجہ سے خفا ہیں کہ میں اولیس کی اولاد میں سے ہوں اور مجھے ملاقات میں مقدم نہیں کیا کیا میں نے کہا وہ ٹھیک کہتے ہیں آپ کا فرض تھا کہ آپ مقامی آدمیوں کو ملاقات کا موقع سب سے پہلے دیتے آپ تو ہمیشہ ملتے ہی رہتے ہیں پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا کہ انہیں ناراض کر دیا ہے آپ ان کو بلوائیں تاکہ میں ان سے ملوں۔چنانچہ مولوی صاحب نے ان کو بلوایا جب وہ آئے تو میں نے دیکھا کہ ان کا لباس بالکل ایسا ہی ہے جیسے عربوں کا لباس ہوتا ہے اور سانولا سا رنگ ہے۔خیر میں ان سے بڑے تپاک سے ملا ہوں اور ان سے باتیں کرتا ہوں تاکہ ان کی دلجوئی ہو جائے اس کے بعد میری نظر تین چار اور دوستوں پر پڑی ان کا لباس بھی عربوں جیسا ہے میں نے کہا مولوی صاحب مجھے ان سے بھی ملا ئیں چنانچہ مولوی صاحب مجھے ان کے پاس لے گئے اور پھر بتانے لگے کہ یہ فلاں شہر کے ہیں تین چار ہی آدمی ہیں اس سے زیادہ نہیں۔اس کے بعد میں نے ایک اور نظارہ دیکھا اور در حقیقت اس لئے میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ اس چبوترے کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے نسبتا چوڑی ہے اور جہاں ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہیں وہاں سے وہ چبوترہ خم کھا کر ایک طرف مڑتا ہے وہ چبوترے اس شکل کے ہیں۔جس جگہ اس کا پہلا غم ہے (جس پر نقشہ میں نمبر لکھا ہے وہاں سے دو تین فٹ جگہ چوڑی ہو گئی ہے میں نے دیکھا کہ اس دو تین فٹ جگہ کے کونے میں در ننگے آدمی جو بہت ہی موٹے تازے ہیں اور ان کے جسم ایسے ہیں جیسے پہلوانوں کے جسم ہوتے ہیں بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے لنگوٹیاں کسی ہوئی ہیں اور باقی تمام جسم ننگا ہے اسی طرح انہوں نے سرمونڈھا ہوا ہے اور تالو کی جگہ انہوں نے عجیب قسم کے کنگروں والے بال رکھے ہوئے ہیں جیسے تبتی وغیرہ لوگ ہوتے ہیں