رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 157

157 دبا کر واپس لے گئی ہو۔الفضل 17۔جنوری 1942ء صفحہ 3 فرمایا : خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ ہم بندوقیں چلا رہے ہیں گو ظاہری بندوق چلانا مجھے یاد نہیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے فائر کئے ہیں ہمارے فائروں کے بعد انگریزی فوج کا قدم آگے بڑھنا شروع ہوا۔پھر فرمایا۔یہ جو میں نے دیکھا ہے کہ ہم نے فائر کئے ہیں اس کا مطلب میں دعا سمجھتا ہوں اور بشیر احمد کا نام بشارت ظاہر کرتا ہے اور اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ ہو سکتا ہے ہماری دعاؤں سے اللہ تعالٰی انگریزی فوجوں کو آخری دفعہ دشمن کو دھکیلنے کی توفیق دے دے کیونکہ گو ضروری نہیں کہ خواب میں جو آخری نظارہ دکھایا جائے فی الواقع بھی وہ آخری نظارہ ہو مگر کثیر الوقوع یہی امر ہے کہ جو آخری نظارہ نظر آئے وہی واقعہ میں بھی آخری ہوتا ہے بہر حال جتنا واقعہ میں نے رویا میں دیکھا بتا دیا۔چوہدری صاحب نے اگلے دن اس رویا کا ذکر اپنے کئی دوستوں اور ہز ایکسی نسی وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر لیتھویٹ سے بھی کیا ان پر اس کا ایسا اثر تھا کہ دوسرے یا تیسرے دن جب چوہدری صاحب کے ہاں چائے پر آئے تو انہوں نے خود مجھ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا کہ آپ نے کیا ر و یا دیکھا ہے اور وہاں میں نے ان سے مکمل رو یا بیان کیا اس کے دو ماہ بعد انگریزی فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی۔1941ء میں دشمن پھر آگے بڑھا اور انگریزی فوج کو دھکیلتا ہوا مصری سرحد تک لے آیا نومبر 1941ء میں پھر انگریزی فوج نے حملہ کیا اور دشمن کی فوجوں کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد پر لے آئی ہیں۔الفضل 3 جولائی 1942 ء صفحہ 1 فرمایا : خواب میں بال دکھائے جانے کے معنے بھی یہی تھے کہ ایسی جگہ لڑائی ہو گی جو ایک وسیع میدان نہیں ہوگی بلکہ محدود جگہ ہو گی اسی طرح خواب میں جو سیڑھیوں والا حصہ دکھایا گیا تھا وہ بھی اس جنگ میں نمایاں طور پر پورا ہوا چنانچہ اس جنگ کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انگریزی فوج جس جگہ لڑ رہی تھی وہ نسبتاڈی پریشن (Depression) یعنی نیچی جگہ تھی اور دشمن شروع میں سامنے کی پہاڑیوں پر قابض تھا۔الفضل 12 نومبر 1942ء صفحہ 1 تا 3 نیز دیکھیں۔الفضل 25۔جون 1944ء صفحہ 2 و 14 - مارچ 1945 ء صفحہ 6 و 18۔فروری 1959ء صفحہ 7-8 اور الموعود صفحہ 142 تا 147۔سیر