روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 85 of 104

روشنی کا سفر — Page 85

بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ ان کے علاج میں مشغول رہتے تھے اور چونکہ حضرت صاحب کو ان سے بڑی محبت تھی اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہو گئے تو حضرت صاحب کو بڑا صدمہ گزرے گا جس وقت صاحبزادہ مبارک احمد فوت ہونے لگے تو وہ سوئے ہوئے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے ان کی نبض دیکھی تو غیر معمولی کمزوری محسوس کی جس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ نبض میں بہت کمزوری ہے کچھ کستوری دیں۔حضرت صاحب جلدی سے صندوق میں سے کستوری نکالنے لگے مگر مولوی صاحب نے پھر کہا کہ حضور نبض بہت ہی کمزور ہوگئی ہے۔حضرت صاحب نے کستوری نکالنے میں اور جلدی کی مگر پھر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نبض نہایت ہی کمزور ہے۔اس وقت دراصل مبارک احمد فوت ہو چکے تھے مگر حضرت مولوی صاحب حضرت مسیح موعود کی تکلیف کا خیال کر کے یہ کلمہ زبان پر نہ لا سکتے تھے مگر حضرت صاحب سمجھ گئے اور خود آ کر نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب فوت ہو چکے ہیں۔اس پر حضور نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور بڑے اطمینان کے ساتھ بستہ کھولا اور بڑے جذبہ کے ساتھ بیرونی احباب کو خط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونا چاہئے۔اور مجھے بعض الہاموں میں بتایا گیا تھا کہ بیٹر کایا تو بہت خدارسیدہ ہوگا یا بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا چاہئے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔آپ کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رقت آمیز نظم کہی جو آپ کے کتبہ پر درج ہے۔جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کو قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر ۸۴ وقف زندگی کی تحریک احمدیت کا پیغام اب تک محض خدا تعالیٰ کے خاص تصرفات اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب وغیرہ سے پہنچ رہا تھا۔واعظین کا کوئی با قاعدہ نظام اس غرض کے لئے موجود نہیں تھا۔لیکن اب چونکہ سلسلہ کا کام بہت بڑھ چکا تھا اور ایک تنظیم کے ساتھ اندرون ملک اور بیرونی دنیا کو پیغام حق پہنچانے کی ضرورت بشدت محسوس ہو رہی تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے