روشنی کا سفر — Page 84
جن سے آپ کو اور آپ کے غلاموں کو سخت دکھ پہنچا۔حضرت اقدس نے یہ عالم دیکھ کر ایک بہت پر اثر تقریر فرمائی جس میں اپنے خدام کو بتایا کہ خدا تعالیٰ اس سب ظلم کو دیکھتا ہے تم صبر کرو وہ ظالم کو خود سزا دے گا۔قادیان کے آریہ تو میرے موجود میں بہت سے نشان بھی دیکھ چکے ہیں۔پس ان پر خدا کی حجت پوری ہو چکی ہے۔اس تقریر پر آریوں کے اخبار ”شجھ چنک“ نے بہت غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی قسم کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔چنانچہ اس تحریر کے جواب میں حضرت اقدس نے 20 فروری 1907ء کو ایک رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم تحریر فرما کر شائع کیا جس میں بطور نمونہ اپنے نشانات درج کر کے انہیں ملزم کیا اور چیلنج دیا کہ آریوں کے سرکردہ لالہ ملاوامل اور لالہ شر میت وغیرہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ بیان کریں کہ یہ نشانات انہوں نے نہیں دیکھے۔اس کتاب کی اشاعت کے بعد آریوں میں سے بعض شوخ اور بد زبان لوگ طاعون کا نشانہ بھی بنے اور حسرت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان آریوں کا پیشہ ہر دم ہے ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی جس ہمارا وہ پیشوا بد زبانی ہے نور سارا ہے نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی اس نور فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں پر وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے " ( منقول از قادیان کے آریہ اور ہم) ۸۳۔حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی ولادت سے قبل ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اُن سے متعلق الہاماً خبر دی گئی تھی کہ انی اسقط من الله واصيبه ، یعنی میں رو بخدا ہوں گا یا جلد فوت ہو جاؤں گا۔علاوہ ازیں ان کی ولادت کے بعد حضور کو 1906ء میں بھی مختلف الہامات و کشوف کے ذریعہ سے بار بار ان کی وفات کی اطلاع ملی۔چنانچہ ان آسمانی خبروں کے عین مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب 16 ستمبر 1907 ء کو بوقت صبح انتقال فرما گئے۔صاحبزادہ صاحب حضرت اقدس کے سب سے چھوٹے بچے تھے اس لئے حضور کو بھی طبعاً اُن سے بہت محبت تھی مگر حضرت صاحبزادہ صاحب کی وفات پر حضوڑ نے صبر وتحمل کا بینظیر نمونہ دکھایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب بیمار ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات ان کی تیمار داری میں مصروف رہتے تھے اور