روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 47 of 104

روشنی کا سفر — Page 47

۴۸۔حضور کے خلاف قتل کا مقدمہ جنگ مقدس میں عیسائیت کو دین حق کے مقابل پر جو شکست فاش ہوئی تھی اُس نے پادریوں کو غضبناک کردیا تھا اور وہ اس ہنر یت کا بدلہ لینے کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف انتقامی کاروائی کرنے کیلئے کسی موقعہ کی تلاش میں تھے۔اور یہ موقعہ انہیں جہلم کے رہنے والے ایک آوارہ مزاج نوجوان عبدالحمید نے فراہم کر دیا۔عبدالحمید نامی یہ شخص بار بارا پنا مذھب تبدیل کرنے کا عادی تھا۔کبھی یہ عیسائی ہوتا، کبھی ہندو اور کبھی مسلمان بن جاتا اور اسی چکر میں وہ قادیان بھی گیا لیکن حضرت مسیح موعود نے اس کی حرکتوں کی وجہ سے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔قادیان سے نکلا تو یہ شخص عیسائیوں کے ایک پادری ہنری مارٹن کلارک کے ہتھے چڑھ گیا جس نے قادیان سے آنے کا سن کر فورا عبدالحمید کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنالیا۔اس نوجوان پر پادریوں نے دباؤ ڈال کر اسے یہ بیان دینے کے لئے تیار کر لیا کہ اسے قادیان سے مرزا غلام احمد نے پادری ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرنے کیلئے بھیجا ہے۔اور یوں آپ کو ایذا پہنچانے کیلئے اقدام قتل کا یہ جھوٹا مقدمہ انگریزی عدالت میں پیش کردیا۔اس زمانے میں ڈپٹی کمشنر گورداسپور ولیم مانڈیگو ڈگلس تھے جو ایک معاملہ فہم اور زیرک انسان تھے۔انہوں نے مقدمہ کی ابتداء سے ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے۔اس لئے انہوں نے شروع سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بڑی عزت کا معاملہ کیا آپ کے لئے کمرہ عدالت میں کرسی کا انتظام کیا اور نہایت نرم الفاظ میں آپ سے کہا کہ گو ڈاکٹر کلارک آپ پر اقدام قتل کا الزام لگاتا ہے مگر میں نہیں لگاتا۔“ ابتداء میں یہ مقدمہ امرتسر میں شروع کیا گیا لیکن خدا تعالیٰ تقدیر اسے وہاں سے ٹال کر بٹالہ میں لے آئی۔جہاں ایک منصف مزاج ڈپٹی کمشنر ولیم مانٹیگو ڈگلس نے اس کیس کی سماعت کی۔10 اگست 1897 ء کو بٹالہ میں اس مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا اور باوجود پادریوں کی معاندانہ کوششوں کے یہ جھوٹا مقدمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکا۔اللہ تعالی نے حضور کو پہلے سے ہی خوشخبریاں دے رکھی تھیں کہ اس مقدمے سے آپ کوئی گزند نہیں پہنچے گا چنانچہ تمام گواہوں کے بیانات وغیرہ سننے کے بعد مسٹرو لیم مانڈیگو ڈگلس نے 23 اگست 1897 ء کو حضرت اقدس کو اس مقدمے سے باعزت بری کر دیا اور پھر ہنستے ہوئے حضور کو مبارک باددی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ڈاکٹر کلارک کے خلاف مقدمہ کر سکتے ہیں۔حضرت اقدس نے ان کی بات سن کر بہت ہی خوبصورت جواب دیا۔آپ نے فرمایا۔میں کسی پر مقدمہ نہیں کرنا چاہتا میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔“