روشنی کا سفر — Page 81
نظیر کتاب 1907ء میں شائع ہوئی۔وجہ تصنیف اس عظیم الشان کتاب کی وجہ تصنیف حضور کے الفاظ میں بیتھی:۔اس زمانہ میں جس طرح اور صد ہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہوگئی ہیں اسی طرح یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا الہام قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے اور کن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا۔اور حدیث النفس ہو نہ حدیث الرب۔۔۔سوان کی یہ نشانی ہے کہ خدا کے فضل کی بارشیں ان پر ہوتی ہیں اور خدا کی قبولیت کی ہزاروں علامتیں اور نمو نے ان میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ ہم اس رسالہ میں انشاء اللہ ذکر کریں گے۔لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہیں مگر پھر بھی اپنی خوابوں اور الہا موں پر بھروسہ کر کے اپنے ناراست اعتقادوں اور نا پاک ندیوں کو ان خوابوں اور الہاموں سے فروغ دینا چاہتے ہیں بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کرتے ہیں۔۔۔یہ وہ خرابیاں ہیں جو اس ملک میں بہت بڑھ گئی ہیں ایسے لوگوں میں بجائے دین داری اور راستبازی کے بیجا تکبر اور غرور پیدا ہو گیا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ رسالہ لکھوں۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 4-3) یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک عظیم علمی شاہکار ہے جس سے حضور کی سچائی بھی روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے اور ( دین حق ) کا زندہ مذہب ہونا بھی ! ۸۰ مسیح محمدی اور احیائے موتی کا ایک نشان Sorry Nothing Can Be Done For Abdul Karim 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور توجہ سے احیائے موتی کا ایک بے نظیر نشان ظاہر ہوا جس نے دنیا کے خصوصی ماہرین امراض کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔اس نشان کی تفصیل خود حضرت اقدس کے الفاظ میں یہ ہے:۔