روشنی کا سفر — Page 82
عبد الکریم نام ولد عبدالرحمن ساکن حیدر آباد دکن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے قضاء قدر سے اس کو سگ دیوانہ کاٹ گیا۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چندر روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گزرنے کے بعد پھر اس میں آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بیقرار ہوا اور دعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹے کے بعد مر جائیگا۔ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے۔اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مر گیا تو ایک برے رنگ میں اس کی موت شماتت اعداء کا موجب ہوگی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت درد اور بیقراری میں مبتلاء ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مردہ زندہ ہو جائے۔غرض اس کے لئے اقبال علی اللہ کی حالت میسر آ گئی۔اور جب وہ توجہ انتہا ء تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلط میرے دل پر کر لیا تب اس بیمار پر جو در حقیقت مردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یک دفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رخ کیا اور اس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔تب اس کو پانی دیا گیا تو اس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا بلکہ پانی سے وضو کر کے نماز بھی پڑھ لی اور تمام رات سوتا رہا اور خوفناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی۔یہاں تک کہ چند روز تک بکلی صحت یاب ہو گیا۔میرے دل میں فی الفور ڈالا گیا کہ یہ دیوانگی کی حالت جو اس میں پیدا ہوگئی تھی یہ اس لئے نہیں تھی کہ وہ دیوانگی اس کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے تھی کہ تا خدا کا نشان ظاہر ہو اور تجربہ کار لوگ کہتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا د یکھنے میں نہیں آیا کہ ایسی حالت میں کہ جب کسی