روشنی کا سفر — Page 64
احمدیت میں داخل ہونے لگے۔1902ء میں ہی جماعت کی تعداد ہزاروں سے نکل کر ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔1904 ء میں یہ تعداد دولا کھا اور 1906ء میں تیزی سے بڑھ کر چار لاکھ تک پہنچ گئی۔حضرت اقدس ان دنوں میں بیعت کرنے والوں کو از راہ مزاح طاعونی احمدی کہا کرتے تھے۔قادیان میں حضور کے گھر اور اس سے ملحق احمدیوں کی بھی اللہ تعالیٰ نے خارق عادت حفاظت فرمائی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا کہ انی احافظ كل من في الدار “ اور باوجود اس کے کہ قادیان میں بھی طاعون کی وجہ سے ہندؤوں اور دوسرے لوگوں کی بہت سے موتیں ہوئیں لیکن حضرت اقدس کے الدار میں ان ایام میں کوئی چوہا تک طاعون سے نہ مرا۔یہ نصرت اور تائید کا عظیم نشان تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت کے مامور کیلئے دکھایا گیا جس نے بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں۔ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا جوش پر نوح کی کشتی میں بیٹھے وہی ہو رستگار۔۶۶ - اخبار البدر" مرکز احمدیت قادیان سے اس سے قبل الحکم کا اجراء ہو چکا تھا جو جماعت احمدیہ کا پیغام محفوظ کرنے اور دور دور تک پہنچانے کی خدمات سرانجام دے رہا تھا۔اب 31 اکتوبر 1902ء سے ایک اور ہفت روزہ اخبار البدربھی جاری ہو گیا۔اس کا پہلا نمونے کا پرچہ القادیان“ کے نام سے شائع ہوا تھا جس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود نے اس کا نام البدر تجویز فرمایا اور نیک تمناؤں کے ساتھ اس کے اجراء کی اجازت مرحمت فرمائی۔البدر کے مالک اور مدیر مکرم محمد افضل صاحب تھے جو بڑے اخلاص اور محنت سے یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے لیکن عمر نے وفا نہ کی اور آپ 21 مارچ 1905ء کواچانک انتقال فرما گئے۔ان کی وفات کے بعد یہ اخبار میاں معراج الدین صاحب نے خرید لیا اور حضرت مسیح موعود نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو جو ان دنوں تعلیم الاسلام اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اس اخبار کا نیا مدیر مقرر فرمایا۔الحکم کی طرح البدر نے بھی حضرت اقدس مسیح موعود کے تازہ الہامات اور ملفوظات کو محفوظ کرنے اور مرکزی خبروں کو دور کی جماعتوں تک پہنچانے کے سلسلے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے الحکم اور البدر کو اپنے دو بازو قرار دیا۔