روشنی کا سفر — Page 42
ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کو (جو اس وقت صرف 14 سال کے تھے ) ایک ہزار کے قریب عربی فقرات بھی ترجمے کے ساتھ لکھوائے تا کہ انہیں یاد کیا جاسکے۔آج بھی اس بات کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ ہماری نئی نسلیں عربی زبان سے واقفیت پیدا اور اس زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔۴۳۔بابا نانک کے مسلمان ہونے کا انکشاف حضرت اقدس مسیح موعود نے قریباً 1878ء میں یہ کشف دیکھا تھا کہ بابا نانک مسلمان تھے اور انہوں نے بھی اسلام ہی کے چشمہ صافی سے پانی پیا تھا۔آپ کو اس وقت سے ہی کامل یقین تھا کہ آئندہ وقت میں اس کشف کی تصدیق ضرور ہو جائیگی۔چنانچہ 1895ء میں آپ نے اسی بات کی تصدیق کی خاطر ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور کے سفر کا ارادہ فرمایا جہاں سکھ روایات کے مطابق حضرت بابا گرونانک کا ایک چولہ مقدس یادگار کے طور پر محفوظ تھا۔جس کے بارے میں سکھوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ چولہ آسمان سے بابا نانک کیلئے اترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے تیار ہوا تھا اور قدرت کے ہاتھ ہی سے بابا صاحب کو پہنایا گیا تھا۔حضور 30 ستمبر 1895 ء بروز پیر صبح سویرے اپنے دس مخلص خدام کے ساتھ اس سفر کیلئے روانہ ہوئے اور قریباً دس بجے صبح ڈیرہ نانک پہنچے۔اور قریباً گیارہ بجے ایک مخلص خادم کی نہایت درجہ کوشش سے یہ چولہ حضور کو دکھانے کیلئے کھولا گیا۔اور اس پر لکھی ہوئی تمام تحریریں آپ نے اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ فرمائیں اس مقدس چولے پر جگہ جگہ قرآن کریم کی آیات کلمئہ طیبہ اور کلمات شہادت درج تھے، کسی جگہ سورۃ فاتح لکھی ہوئی تھی اور کسی جگہ سورۃ اخلاص اور بعض جگہوں پر یہ لکھا تھا کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اسے ناپاک لوگ ہاتھ نہ لگائیں۔یہ چولہ حضرت بابا نانک کے مسلمان ہونے پر بہت بڑا گواہ تھا پس حضور نے اس سفر کے بعد سکھوں پر اتمام حجت کی غرض سے ایک کتاب ”ست بچن تحریر فرمائی جو نومبر 1895ء میں شائع ہوئی جس میں حضور نے حضرت بابا نانک کے مسلمان ہونے کے دلائل کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔اور اس عظیم تصنیف کو پڑھ کر متعد دسکھوں نے دین حق بھی قبول کیا۔