روشنی کا سفر — Page 21
جب چالیس روز گزر گئے تو آپ نے حسب وعدہ 20 دن اور قیام فرمایا جس کے دوران احباب سے ملاقات بھی ہوتی رہی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی تبادلہ خیالات کیلئے آپ سے ملنے آتے رہے۔اور آریہ سماج کے ایک عالم سے مباحثہ بھی ہوا جو سرمہ چشم آریہ کے نام سے حضور کی کتاب میں مذکور ہے۔آپ اس کامیاب سفر کے بعد 17 مارچ 1886ء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور فضل کے بے حساب وعدے اور خوشخبریاں لے کر خیریت کے ساتھ قادیان واپس پہنچ گئے۔دیکھا ہے تیرا منہ مقصود مل گیا سب ہے ہم ہے جام کوکب اب لبالب تیرے يارب بر آیا میرا مطلب روز کر مبارک سبحان من مرانی ۱۹۔پیشگوئی حضرت مصلح موعود ہوشیار پور کی چلہ کشی کے دوران حضرت مسیح موعود کو کثرت کے ساتھ بشارتیں اور خوشخبریاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھیں۔انہیں بشارتوں میں سے ایک اہم ترین بشارت آپ کہ ہاں ایک ایسے بیٹے کی ولادت کے بارے میں تھی جس نے مستقبل میں اسلام کی سربلندی کیلئے عظیم خدمات سرانجام دینا تھیں۔یہ پیشگوئی حضور نے 20 فروری 1886ء کوایک اشتہار کی صورت میں شائع فرمائی اور اس موعود بیٹے کے بارے میں خدا تعالیٰ کی بیان کردہ علامات اور نشانیاں تحریر فرمائیں نیز بتایا کہ یہ موعود بیٹا 9 سال کے عرصے میں پیدا ہوگا۔مخالفین کی طرف سے اس پیشگوئی پر مخالفت کا ایک سیلاب امڈ آیا۔اور طرح طرح کے حملے کئے جانے لگے۔اس پیشگوئی کے بعد حضرت مسیح موعود کے ہاں صاحبزادی عصمت اور بشیر اول پیدا ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے دی گئی خبروں کے مطابق کہ بعض بچے کم عمری میں فوت ہو نگے یہ فرزند بشیر اؤل 4 نومبر 1888ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ان کی وفات پر مخالفین کے شور میں اور بھی اضافہ ہو گیا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔حضور نے ان باتوں کے جواب میں یکم دسمبر 1888ء کو ایک اشتہار سبز رنگ کے کاغذ پر شائع فرمایا جس میں ان تمام اعتراضات کا مفصل جواب اور پیشگوئی تحریر فرمائی۔یہ اشتہار ”سبز اشتہار کے نام سے معروف ہے۔ان تمام باتوں کے بعد بالآخر 12 جنوری 1889ء کو پیشگوئی کے مصداق موعود بیٹے کی پیدائش ہوئی جن کا نام مرزا