روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 18 of 104

روشنی کا سفر — Page 18

۱۵۔ماموریت کا دعوئی اور نشان نمائی کی عالمگیر دعوت مارچ 1885ء میں حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر اپنے مامور وقت اور مسجد دہونے کا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کیا۔آپ نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح ناصری کی طرز پر نرمی اور محبت سے انسانوں کی اصلاح کرنے کیلئے مبعوث کیا ہے۔اور آنحضرت کی کامل غلامی اور متابعت کی وجہ سے آپ کو یہ اعلیٰ مرتبہ نصیب ہوا ہے۔اس دعوی کے ساتھ ساتھ آپ نے دنیا کے تمام مذاہب کے لیڈروں اور رہنماؤں کو یہ دعوت بھی دی کہ اگر وہ سچائی کے طالب بن کر آپ کے ساتھ ایک سال تک قیام کریں تو ضرور وہ اپنی آنکھوں سے ایک سال کے اندر اندر دین حق کی سچائی اور آپ کی صداقت کے نشان دیکھیں گے۔اور اگر وہ ایک سال کے اندر ایسے نشان نہ دیکھیں تو انہیں جرمانے کے طور پر دو سو روپے ماہوار کے حساب سے ایک سال کے چوبیس سو روپے ادا کئے جائیں گے۔حضور نے یہ اعلان اردو اور انگریزی زبان میں ہیں ہزار کی تعداد میں شائع کروا کے ایشیا یورپ اور امریکہ کے تمام بڑے بڑے مذہبی راہنماؤں اور علماء وغیرہ کو ارسال کئے اور نشان دیکھنے کے لئے قادیان آنے کی دعوت دی۔دین حق کی سچائی کا ایسا عظیم نمونہ ہندوستان کے دیگر مذاہب کے لئے دہلا دینے والا تھا لیکن کسی کو بھی اس اعلان کے مطابق قادیان آنے کی ہمت نہ پڑی اور مختلف بہانے بنا کر مخالفین ادھر ادھر ہو گئے۔آریوں میں سے ایک پر جوش نو جوان لیکھرام جو خود کو آریوں کا رہنما ظاہر کرتا تھا اس نے بھی اس سلسلے میں خط و کتابت کی دوماہ کے لئے قادیان بھی آیا لیکن پھر اچانک بہانہ بنا کر واپس چلا گیا۔اور دشمنی میں پہلے سے بھی بڑھ گیا بالآخر انہی بدزبانیوں کی پاداش میں 1897ء میں خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن گیا اور ہلاک ہو گیا۔آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر ہر چند بلایا ہم نے مخالف کو مقابل آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا گے لو تمہیں تستی کا بتایا ہم نے ۱۶۔سرخی کے چھینٹوں کا نشان یہ 10 جولائی 1885 ء کا ذکر ہے۔رمضان کا مہینہ تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود صبح کے وقت بیت مبارک مشرقی حجرے میں استراحت فرمارہے تھے۔آپ بائیں کروٹ لیٹے ہوئے تھے اور دایاں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھا ہوا تھا۔حضور کے