روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 19 of 104

روشنی کا سفر — Page 19

مخلص خادم حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب نے (جو اس وقت آپ کو دبا رہے تھے ) دیکھا کہ حضور کے ٹخنے پر سرخی کا ایک چھینٹا پڑا ہے۔وہ حیرانگی سے اس سرخی کو دیکھنے لگے۔تب انہوں نے مزید دیکھا تو پتہ چلا کہ حضوڑ کے کرتے پر بھی سرخی کے چندہ تازہ تازہ قطرے پڑے ہیں جب حضور بیدار ہوئے تو منشی صاحب نے آپ سے دریافت کیا کہ یہ سرخی کے چھینٹوں کا کیا معاملہ ہے۔حضور نے سنوری صاحب کو اپنا کشف سنایا کہ میں نے ابھی کشفی حالت میں دیکھا ہے کہ میں نے بعض اہم فیصلے آئندہ زمانے کے بارے میں اپنے ہاتھ سے لکھے اور کشفی حالت میں ہی ان پر دستخط کروانے کیلئے خدا تعالی کے سامنے پیش کئے جو ایک حاکم کی شکل میں متمثل تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں پر دستخط کرنے کیلئے سرخی کو چھڑکا اور پھر دستخط فرما دئیے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نشان کے طور پر یہ کشفی حالت میں دکھائی جانے والی سرخی خارجی وجود میں منتقل ہوگئی اور منشی عبداللہ سنوری صاحب اس نشان کے گواہ بن گئے۔منشی صاحب نے حضور سے عرض کیا کہ آپ یہ سرخی کے چھینٹوں والا کرتا مجھے عنایت کر دیں۔آپ نے اول تو شرک کے ڈر سے اس بات سے انکار فرمایا لیکن پھر سنوری صاحب کی اس یقین دہانی پر کہ یہ کر تہ ان کے ساتھ دفن کر دیا جائیگا آپ نے انہیں یہ کر تہ عنایت فرمایا جس کے بعد 7 اکتوبر 1927ء کونشی عبداللہ سنوری صاحب کی وفات پر یہ کر نہ ان کے ساتھ بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا گیا۔آسمان کی گواہی ۱۷۔شہب ثاقبہ کا گرنا 28 نومبر 1885ء کی رات اس پہلو سے قابل ذکر ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود کے لئے آسمان سے ایک نشان ظاہر ہوا۔اور آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہا ماً بتایا گیا کہ یہ نشان آپ کے لئے ظاہر کیا گیا ہے۔حضرت مسیح ناصری نے اپنی آمد ثانی کے بارے میں ایک پیشگوئی یہ بھی کی تھی کہ اس وقت جب مسیح ظاہر ہوگا تو سورج تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور آسمان سے ستارے گرنے لگیں گے اور جو قو تیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی۔اور اس وقت لوگ ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔“