روشنی کا سفر — Page 86
ستمبر 1907ء میں جماعت کے سامنے ”وقف زندگی“ کی پر زور تحریک فرمائی۔ابتدائی واقفین زندگی اس تحریک پر قادیان میں مقیم نو جوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف کرنے کی درخواستیں حضور کی خدمت میں پیش کیں۔حضرت اقدس کی ڈاک کی خدمت ان دنوں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے سپر د تھی اس لئے حضرت اقدس نے مفتی صاحب ہی کو ہدایت فرمائی کہ ایسے واقفین کی فہرست بنا ئیں چنانچہ انہوں نے اس غرض کے لئے ایک رجسٹر کھول دیا۔ابتدائی واقفین زندگی میں حضرت سید سرور شاہ صاحب چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب قابل ذکر ہیں۔وقف زندگی کی شرائط حضرت اقدس مسیح موعود نے ”وقف زندگی کی تحریک کا اعلان کرنے کے بعد میر حامد شاہ صاحب سے اس کی شرائط لکھوائیں اور کچھ اصلاح کے ساتھ ان کو پسند فرمایا۔ان شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ میں کوئی معاوضہ نہ لوں گا۔چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔“ ایک ضروری ہدایت حضور نے بی دی کہ واقعین کو ہر ہفتہ با قاعدگی سے اپنی رپورٹ بھجوانی ہوگی۔تحریک ”وقف زندگی کی بنیاد گو حضرت اقدس علیہ السلام ہی کے ہاتھ سے رکھی گئی۔مگر حضور کی زندگی میں اپنے نام پیش کرنے والے واقفین کو اندرون ملک یا بیرون ملک بغرض تبلیغ مقرر کرنے کی نوبت نہیں آسکی۔تاہم حضور کے منشاء مبارک کی تکمیل خلافت ثانیہ کے زمانہ میں ہوئی۔اور خدمت دین کے جذبے سے سرشار واقفین زندگی نے اپنی جانیں اس عظیم مقصد کے لئے پیش کیں اور پوری دنیا میں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔آج وقف زندگی کی یہ تحریک بڑی خوبی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے جسے حضرت مسیح موعود نے اپنے مبارک عہد میں شروع کیا تھا۔۸۵۔آریہ سماج لاہور کی مذہبی کانفرنس اور حضرت اقدس کا مضمون آریہ سماج لا ہور وچھووالی نے نومبر 1907ء میں اپنے تئیسیویں 23 سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کرنے کا اشتہار دیا اور لکھا کہ مختلف مذاہب کے منتخب نمائندے نہایت مہذبانہ رنگ میں اس سوال پر روشنی ڈالیں گے کہ کیا کوئی