روشنی کا سفر — Page 80
جماعتی ادارے مدغم کر کے موجودہ صدر انجمن احمدیہ کی بنیاد پڑی۔اور اس کے پہلے صدر حضرت مولانا نورالدین صاحب مقرر ہوئے۔۷۸ تزلزل در ایوان کسر می فتاد ایران ایک بہت پرانا تاریخی ملک ہے۔زمانہ قدیم سے اس ملک کے بادشاہوں کا لقب کسری چلا آتا تھا۔حضرت اقدس کو 15 جنوری 1906ء کو الہام ہوا۔" تزلزل در ایوان کسری فتاد جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے۔اس وقت ایران پر شاہ مظفر الدین حکمران تھے اور اس الہام سے چند ماہ قبل 1905ء میں عوام کے مطالبات کو قبول کر کے پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کر چکے تھے اور ایران کے لوگ بادشاہ کے اس اعلان سے بہت خوش تھے اور بادشاہ بھی اپنی مقبولیت پر خوش ہورہا تھا لیکن رب العرش خدا جس نے الہام " تزلزل در ایوان کسری فتاد نازل فرمایا تھا وہ اپنے اس الہام کو پورا کرنا چاہتا تھا۔مظفرالدین قاچارشہنشاہ ایران 1907ء میں وفات پاگئے اور ان کا ولی عہد مرزا محمد علی اپنے باپ کی جگہ تخت نشین ہوا۔اگر چہ اس نے بھی تخت حکومت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا۔مگر خدا کی قدرت سے ملک میں ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ بادشاہ اور مجلس میں مخالفت شروع ہوگئی۔مجلس بادشاہ کے بعض در بار یوں کوفتنہ کا بنی بجھتی تھی اور اس کا مطالبہ تھا کہ وہ دربار سے علیحدہ کر دیئے جائیں۔گو بادشاہ نے مجلس کا مطالبہ مانے کا وعدہ تو کر لیا مگر ساتھ ہی یہ ارادہ بھی کیا کہ وہ طہران کو چلے جائیں۔تبدیلی کے وقت بادشاہ کی باڈی گارڈ فوج اور قوم پرستوں کے حمایتیوں کے درمیان بگاڑ پیدا ہو گیا۔اور حضرت اقدس کا الہام اس رنگ میں پورا ہوا کہ بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا۔بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں عام بغاوت پھیل گئی۔بالآخر بادشاہ کی باڈی گارڈ فوج بھی جس پر بادشاہ کو بہت ناز تھا، باغیوں کے ساتھ مل گئی اور مرزا محمد علی قاچار کسری ایران کے ایوان میں ایسا تزلزل پڑا کہ اسے پندرہ جولائی 1909 ءوک اپنے حرم سمیت روسی سفارتخانہ میں پناہ لینی پڑی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت ہمیشہ کے لئے اس خاندان سے نکل گئی اور کسریٰ کا وجود دنیا سے مٹ گیا۔۷۹۔حضرت اقدس کی کتاب حقیقۃ الوحی 1906ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دور مسیحیت کی سب سے ضخیم اور جامع کتاب حقیقۃ الوحی تصنیف کرنا شروع فرمائی جس میں قرآنی حقائق و معارف کے علاوہ اپنی صداقت کے سو 100 سے زائد آسمانی نشانات درج فرمائے۔یہ بے