روشنی کا سفر — Page 79
حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی 1858ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ کا نام کریم بخش تھا جسے حضرت مسیح موعودؓ نے عبد الکریم میں تبدیل فرما دیا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب سے محبت کا گہرا تعلق آپ کے احمدیت سے تعارف کا باعث بنا اور مارچ1888ء میں آپ کی ملاقات حضرت اقدس مسیح موعود سے ہوئی جس کے بعد یہ تعلق روز بروز بڑھتا ہی چلا گیا اور جلد ہی آپ حضور کے قریبی رفقاء میں شامل ہو گئے۔چنانچہ حضرت اقدس کی آپ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ کی آخری بیماری میں حضور آپ کے لئے بہت بے چین اور فکرمند رہتے اور علاج کے لئے دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے مادی ذرائع بھی مہیا فرماتے۔آپ کی اپنے اس غلام سے محبت کا یہ عالم تھا کہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا۔111اکتوبر 1905 ء کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوئی دن 2:30 بجے کے قریب عالم جاودانی کو رحلت فرما گئے۔حضرت اقدس ان دنوں اپنے مخلص اور نیک خدام کے لئے ایک الگ قبرستان بنانے کا ارادہ فرما رہے تھے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بشارتیں دی گئی تھیں اس لئے حضور نے اپنے اس پیارے غلام پر شفقت فرماتے ہوئے انہیں ابتداء میں امامنا وفن کروایا۔اور بہشتی مقبرہ کے قیام کے بعد آپ 27 دسمبر 1905ءکو بہشتی مقبرے میں دفن کئے گئے۔حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کا لیڈر ہونے کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔وو بهشت ۷۷ صدر انجمن احمدیہ کا قیام مقبرہ کی آمد کی حفاظت اسے فروغ دینے اور خرچ کرنے کے لئے حضور نے ایک انجمن بنائی جس کا نام انجمن کار پردازان مصالح بهشتی مقبرہ تجویز فرمایا اور اس سلسلہ میں بعض خاص ہدایات الوصیت میں بطور ضمیمہ درج کر کے لکھا کہ یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے۔‘ یہ انجمن کوئی دنیوی یا جمہوری طرز کی کوئی انجمن نہیں تھی بلکہ ان اموال کی حفاظت اور توسیع اور اشاعت دین کی غرض سے بنائی گئی تھی جو نظام الوصیت کے نتیجہ میں جماعت کو عطا ہونے والے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے مشورہ دیا کہ بہشتی مقبرہ والی انجمن کو قانونی وسعت دے کر دوسرے جماعتی اداروں ( مثلا ر یو یو آف ریلیجنز اور مدرسہ تعلیم الاسلام وغیرہ) کو بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا جائے اور اس کا نام صدرانجمن احمد یہ رکھا جائے۔جماعتی تنظیم کے اعتبار سے یہ ایک معقول اور مفید مشورہ تھا اس لئے حضور نے اسے قبول بھی فرمالیا اور 31 جنوری 1906 ء تک اس کے قواعد وضوابط تجویز کر لئے گئے جو 10 فروری 1906ء کے ”الحکم اور 16 فروری کے ”بدر میں جماعت کی اطلاع کے لئے شائع بھی کر دیئے گئے۔اس طرح اصل انجمن کار پرداز مصالح قبرستان میں ہی دوسرے تمام