روشنی کا سفر — Page 70
جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلے میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مرا در لکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبے کا بھی گزر گیا دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدے سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدے کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 67) آج جماعت احمد یہ اس پیشگوئی کے مطابق ترقیات کی منازل طے کرتی چلی جارہی ہے اور وہ دن آنے والے ہیں جب یہ عظیم پیشگوئی بھر پورشان و شوکت کے ساتھ پوری ہوگی۔اے۔ذحت کرام حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود کی مبشر اولاد میں سے آخری وجود تھیں۔آپ کی ولادت با سعادت 25 جون 1904 ء کو ہوئی۔آپ کے بارے میں حضرت اقدس کو یہ الہام ہوا ” ذحت کرام“ چنانچہ آپ کی پیدائش کے بعد حضور نے حقیقۃ الوحی میں اس الہام کا تذکرہ بھی فرمایا ہے۔آپ کی شادی حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سے 22 فروری 1917ء کو ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور چھ بیٹیوں سے نوازا۔آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبی اور فعال زندگی بسر کی اور 6 مئی 1987ء بروز بدھ سہ پہر 3 بجے قریباً 83 سال کی عمر میں وفات پائی اور اپنے مالک حقیقی کے