روشنی کا سفر — Page 65
۶۷۔ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی عبرت کا نشان ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوٹی کا نام سلسلہ احمدیہ سے وابستہ لوگوں کے لئے جانا پہچانا نام ہے۔کیونکہ یہ وہ شخص تھا جو حضرت مسیح موعود کی پیش خبریوں کے مطابق خدا تعالی کی قبری قبلی کا شکار ہوا اور ہمیشہ کیلئے عبرت کا نشان بن گیا۔ڈاکٹر ڈوئی سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا جو بچپن میں ہی اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا چلا گیا تھا جہاں 1872ء کے لگ بھگ وہ ایک کامیاب مقرر اور پادری کے طور پر ابھرا اور 1888ء میں امریکہ پہنچ کر اپنے خیالات کا پرچار کرنے لگا۔اس کے معتقدین کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی گئی جس کی بناء پر 22 فروری 1896ء کو اس نے ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی جس کا نام کریچن کیتھولک چرچ رکھا۔اور کچھ ہی عرصہ بعد 1900 ء میں اس نے نبی ہونے کا دعوی بھی کر دیا۔اپنی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر ڈوئی نے میحون نامی ایک شہر کی بنیاد رکھی اور یہ اعلان کیا کہ مسیح اس شہر میں نازل ہونگے۔اس کے مریدوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی اور آمدنی بھی بے انتہاء ہونے لگی۔ڈوئی عملاً اب ایک بادشاہ کی طرح اپنے بسائے ہوئے شہر میں شادمانی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔اس کا دعوی تھا کہ ہم محض ہیں سال میں تمام دنیا فتح کرلیں گے۔اپنی فتوحات کی خبروں کے ساتھ ساتھ ڈوئی نے اسلام کی تباہی و بربادی اور مسلمانوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں بھی کرنا شروع کر دیں اور بار بارلکھا کہ خداوند یسوع مسیح نے اسے خبر دی ہے کہ اب تمام مسلمان تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے سوائے ان کے جو مریم کے بیٹے کی خدائی کو قبول کر لیں گے اور ڈوئی کو رسول مانیں گے۔حضرت مسیح موعوڈ تک جب ڈوئی کی ان پیشگوئیوں کی اطلاع پہنچی تو آپ کی دینی غیرت نے جوش مارا۔آپ نے اس شخص کے بلند و بانگ دعاوی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے مختلف اشتہارات دیئے جن میں آپ نے ڈوئی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سب لوگوں کو مارنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر تم اپنے دعووں میں بچے ہو تو صرف مجھے ذہن میں رکھ کر دعا کرو کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں عبرت ناک موت کا شکار ہو جائے۔آپ کے اشتہارت مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے لیکن ڈوئی با وجود بار بار بلانے کے مقابلے پر نہ آیا۔اور ڈوئی باوجود لیکن پھر 26 دسمبر 1903 کو اس نے اپنی خاموشی توڑ ہی دی اور اپنے اخبار میں لکھا کہ میں ان کیڑوں مکوڑوں کی باتوں کا کیا جواب دوں جنہیں میں اپنا پاؤں رکھ کر ایک دم میں کچل سکتا ہوں۔اسی طرح اگلے ہی دن 27 دسمبر کے اخبار میں اس نے حضرت مسیح موعود کے خلاف سخت بد زبانی بھی کی۔اور یوں وہ کھلم کھلا آپ کے مقابلے پر اتر آیا۔اور اس مقابلے کے لئے میدان میں اترتے ہی اس کی تباہی اور بربادی کی داستان کا آغاز ہو گیا۔سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ امریکہ کے اخبار نیویارک ورلڈ نے ثبوتوں کے ساتھ یہ لکھا کہ ڈاکٹر ڈوئی اپنے معلوم باپ