روشنی کا سفر — Page 58
مجلس تھی۔اس مجلس کے پہلے صدر بھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی منتخب ہوئے۔اس مجلس کی غرض و غایت یہ تھی کہ احمدی نوجوانوں کو دعوت الی اللہ کے میدانوں کے لئے علمی اور اخلاقی اعتبار سے تیار کیا جائے۔یہ مجلس اگر چہ 1900ء میں وجود میں آئی لیکن نمایاں رنگ میں اس کی سرگرمیاں 1906ء میں جماعت کے سامنے آئیں جب اس مجلس کا از سر نو احیاء ہوا اور تشخیذ الاذہان ہی کے نام سے اس مجلس کا تر جمان رسالہ بھی شائع ہونے لگا۔یکم مارچ 1906ء کا دن سلسلے کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ادارت میں ایک سہ ماہی رسالے کا اجراء کیا گیا جس کا نام حضرت مسیح موعود نے مجلس تشید الاذہان کی مناسبت سے تفخیذ الا ذہان“ تجویز فرمایا۔اس سلسلے کا پہلا رسالہ یکم مارچ 1906 ء کو شائع ہوا جس میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی) نے چودہ صفحات کا ایک تعارف اس رسالے کی بابت تحریر فرمایا۔بنیادی طور پر اس رسالے کے اجراء کے 6 اغراض و مقاصد تھے۔ا۔( دین حق ) کا نورانی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا۔۲ - حضرت اقدس مسیح موعود کے وہ نصائح شائع کرنا جو آپ گھر میں فرماتے ہیں۔۔( دین حق ) اور احمدیت پر ہونے والے اعتراضات کا تہذیب کے ساتھ رڈ کرنا۔۴۔دین کے ممتاز لوگوں کے حالات اور سوانح عمریاں پیش کرنا۔۵۔شریعت کے مسائل بیان کرنا تا کہ نا واقف لوگوں کو ان کا علم ہو سکے۔۶۔اس رسالے سے کوئی مالی فائدہ نہ اٹھایا جائے بلکہ جو بھی آمد ہو وہ دین حق کی اشاعت میں صرف کی جائے۔چنانچہ ان خوبصورت اغراض و مقاصد کے ساتھ یہ رسالہ جاری کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت برکت عطا فرمائی۔یہ رسالہ ابتداء میں تین ماہ بعد شائع ہونا شروع ہوا لیکن ایک ہی سال کے بعد ماہانہ شائع ہونے لگا۔جماعت احمدیہ کے پہلے شہید ۶۰۔حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب۔کابل کابل افغانستان کے ایک یگانہ روزگار عالم اور بزرگ حضرت صاحبزادہ عبد الطیف صاحب تک جب حضرت اقدس مسیح موعود کا پیغام پہنچا تو انہوں نے اپنی خداداد فراست اور روحانیت کے نور سے اس پیغام کی سچائی کو معلوم کر لیا اور دسمبر 1900ء میں اپنے چند شاگردوں کو بیعت کا خط دے کر حضرت اقدس کی خدمت میں روانہ کیا۔ان شاگردوں میں حضرت مولوی عبدالرحمان صاحب بھی شامل تھے جو حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دو یا تین مرتبہ حاضر ہوئے اور حضور کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔