روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 50 of 104

روشنی کا سفر — Page 50

نب پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔آہستہ آہستہ جب ضروریات بڑھنے لگیں تو مدرسہ کیلئے علیحدہ جگہ خرید کر عمارت بنائی گئی۔یہ سکول جس کا آغاز بہت مختصر تھا اپنی ترقیات کی منازل طے کرتا چلا گیا اور احمدی بچوں کی علمی اور روحانی پیاس بجھانے کے لئے خدمات سرانجام دیتے ہوئے ہائی سکول بنا اور پھر کالج کے معیار تک پہنچ گیا۔تقسیم ملک کے بعد یہ سکول اور کالج از سرنو چنیوٹ میں جاری کیا گیا اور مارچ 1952ء میں اپنی موجودہ مستقل عمارت واقع ربوہ میں منتقل ہوا۔۵۱۔حضرت مسیح موعود کا فوٹو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یورپ کے لوگوں کو احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے ایک کتاب کی تصنیف کا ارادہ فرمایا تو ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تجویز ہوا کہ چونکہ وہاں کے لوگ قیافہ شناسی کے ماہر ہیں اور محض تصویر کے خدو خال دیکھ کر صاحب تصویر کے اخلاق کا پتہ چلا لیتے ہیں اس لئے اس کتاب کے ساتھ مصنف اور مترجم کی تصاویر بھی لگا دی جائیں لہذا اس دینی اور تبلیغی ضرورت کے پیش نظر حضرت اقدس نے فوٹواتر وانے پر آمادگی ظاہر فرمائی تا کہ یہ تصویر حق کی شناخت کیلئے معاون ثابت ہو۔چنانچہ بعد میں آنے والے وقتوں میں ایسے بہت سے واقعات ہوئے کہ دور دراز ملکوں میں بسنے والے لوگوں نے محض آپ کی تصویر دیکھ کر احمدیت قبول کر لی۔آپ کے اس فوٹو کے لئے میاں معراج دین صاحب عمر لاہور سے ایک فوٹوگرافر کو لے کر آئے جس نے حضور کے تین فوٹو کھینچے۔ان میں سے دو گروپ فوٹو تھے جبکہ ایک تصویر پورے قد کی علیحد ہ تصویر تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام کی عادت غض بصر کی تھی اس لئے فوٹوگرافر کو بار بار یہ درخواست کرنا پڑی کہ حضور آنکھیں ذرا کھول کر رکھیں اور نہ تصویر اچھی نہیں آئے گی چنانچہ اس کے اصرار پر حضور نے ایک مرتبہ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھول نگر پھر وہ اپنی اصل حالت پر لوٹ آئیں۔فوٹوگرافر نے لباس اور بعض دیگر چیزوں کے بارے میں بھی معروضات کیں لیکن آپ نے انتہائی سادگی اور بے تکلفی سے فوٹو کھنچوایا۔اور یہی رنگ تصویر میں بھی جلوہ گر رہا۔یہ فوٹو وسط 1899ء میں قادیان میں لیا گیا جس کے بعد میاں معراج دین صاحب عمر نے ان تصویروں کی طباعت کا انتظام کر کے 10 اگست 1899ء کو بذریعہ الحکم ان کی اشاعت کا باقاعدہ اعلان شائع کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود کی طرف سے