روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 20 of 104

روشنی کا سفر — Page 20

(مرقس باب 13 آیات 24 تا 27) قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس موعود وقت کی نشانیوں میں ان نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے جو سورۃ التکویر اورسورۃ الانفطار میں مذکور ہیں۔چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود کے زمانے میں سورج اور چاند کو گرہن بھی لگا اور آسمان سے ستارے ٹوٹنے کا منظر بھی دنیا نے مشاہدہ کیا۔28 نومبر 1885 ء کی رات کو آسمان پر اس کثرت کے ساتھ شہاب ثاقب گرتے ہوئے نظر آئے کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے شعلوں کی بارش ہو رہی ہو۔یہ ایک غیر معمولی نظارہ تھا جسے اس وقت کے اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔حضرت مسیح موعود خدائی الہامات کی روشنی میں بڑی محبت کے ساتھ اس منظر کو دیکھتے رہے اور الہی بشارتوں کا تصور کر کے لطف اندوز ہوتے رہے۔دنیا شاید نہیں جانتی تھی لیکن آپ جانتے تھے کہ یہ عظیم نشان آپ کے لئے ظاہر ہوا ہے۔(بحوالہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 110 -109 حاشیہ ) مبارک سفر ۱۸۔ہوشیار پور میں چلہ کشی 1886ء کا سال اس اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سال آپ دو ماہ کیلئے ہوشیار پور تشریف لے گئے جہاں آپ نے 40 روز تک تنہائی میں اپنے خدا تعالیٰ کی عبادت کی جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے اور آپ کے مقاصد کے لئے بھاری بشارتیں اور خوشخبریاں دی گئیں۔حضور چلہ کشی کیلئے جنوری 1886ء میں ہوشیار پور روانہ ہوئے اور وہاں شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے ایک مکان میں جو شہر کے ایک کنارے پر واقع تھا قیام فرمایا۔حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب اور دو دیگر احباب بھی اس سفر میں حضور کے ساتھ تھے تا ہم آپ نے ان خدام کو یہ ہدایت فرما رکھی تھی کہ چالیس روز کی اس چلہ کشی کے دوران کسی اعتبار سے آپ کی تنہائی میں مخل نہ ہوں نہ ہی مقامی لوگوں کو اجازت تھی کہ ملنے کے لئے آئیں یا دعوت وغیرہ کا اہتمام کریں۔آپ نے پہلے سے ہی دوستوں کو اطلاع دے دی تھی اس چالیس روزہ عبادت کے بعد آپ مزید بیس دن ہوشیار پور میں قیام کرینگے تا کہ دوست احباب سے ملاقات ہو سکے اور علمی مجالس لگائی جاسکیں۔